امریکی دلہن کا شور سے روکنے پر ہوٹل کیخلاف 5ملین ڈالرہرجانے کا دعویٰ

امریکی دلہن کے والدین نے بیٹی کی شادی کے استقبالیے میں شدید شور سے روکنے پر ہوٹل اور شادی کے انتظامات کرنے والے کمپنی کیخلاف 5ملین ڈالر ہرجانے کا مقدمہ دائر کردیا۔
برطانوی اخبارانڈیپنڈنٹ کے مطابق امریکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے دلہن کی والدہ مارجوری نیومین نے بتایا کہ بروکلین پیئر 1 ہوٹل میں ان کی بیٹی کی شادی کے موقع پر کیسے انہیں ایک گندے کمرے میں منتقل ہونا پڑا کیونکہ ا س وقت پارٹی میں بہت شور ہورہا تھا۔انہوں نے بتایا کہ یہ بے حد تباہ کن تھا کیونکہ وہ رات میری بیٹی کی تابناک رات تھی لیکن اس سے سب کچھ چھین لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
امریکی اینکر کی بچی کوگودمیں اٹھاکر موسم کا حال بتانے کی وڈیو وائرل
ٹوئٹر صارف کی مفتاح اسماعیل سے چاکلیٹ بسکٹ بنانے کی فرمائش
جیسکا الووس اور میٹ الووس کی شادی کی تقریب 18 ستمبر کو ہوٹل میں منعقد ہوئی تھی جس میں 200 مہمان مدعو تھے۔ مارجوری اور ان کے شوہر رسل نے بتایا کہ مقدمے میں شادی پر اٹھنے والے اخراجات کی تفصیلات بھی شامل کی گئی ہیں کیونکہ صرف پھولوں کی سجاوٹ پر ہی ڈیڑھ لاکھ ڈالر خرچ ہوئے تھے ۔ لیکن شادی کی تقریب شروع ہونے کے بعد دلہا دلہن کے علم میں یہ بات آئی کہ ہوٹل کے قوائد و ضوابط کے مطابق موسیقی کی آواز ایک حد سے زیادہ نہیں ہوسکتی ، جس کے نتیجے میں موسیقی کی آواز انتہائی کم ہوگئی اور مہمان بمشکل ہی اسے سن سکے۔
مقدمے میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈی جے نے آواز بڑھانے سے انکار کر دیا، اس لیے پارٹی کو بروکلین پیئر 1 ہوٹل کے ساتھ والی عمارت کے ایک چھوٹے اور تاریک کمرے میں منتقل کر دیا گیا جس میں صرف 60افراد کی گنجائش تھی اور بیٹھنے کی کوئی جگہ نہیں تھی اور نہ ہی کوئی پھول تھا۔
دلہن کے والد نے بتایا کہ شور کی پابندی ہوٹل کے اطراف آبادی کی وجہ سے تھی۔ تاہم یہ پابندی شادی سے تین ہفتے قبل لاگو کی گئی تھی اور مبینہ طور پر ہوٹل نے دولہا اور دلہن کو اس سے آگاہ نہیں کیا تھا۔
قانونی چارہ جوئی کے مطابق جیسیکا کا خاندان شادی کی تقریب کو برباد کرنے پر 5 ملین ڈالر ہرجانے کا دعویٰ کررہا ہے ،خاندان کی جانب سے ہوٹل انتظامیہ اور تقریب کے انتظامات کرنے والی کمپنی کو معاہدے کی خلاف ورزی اور آواز کی پابندیاں دھوکا دہی سے چھپانے کا مرتکب قرار دیا گیا ہے۔









