بھارتی نجی کمپنی ریٹائر ہونے والے فوجی افسران کو ملازمت دے گی

انڈین نیول پلیسمنٹ ایجنسی اور فلپ کارڈ کے درمیان معاہدہ طے پاگیا، ہم فوجیوں کے مقروض ہیں، کمپنی سربراہ

انڈین نیول پلیسمنٹ ایجنسی (آئی این پی اے) اور فلپ کارٹ نے ایک میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر دستخط کیے جس کے ذریعے دونوں ادارے فلپ کارٹ گروپ میں ریٹائر ہونے والے فوجی افسران کی بھرتی کے لیے مواقع تلاش کریں گے۔

بھارت کے محکمہ دفاع کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق انڈین نیوی کے کنٹرولر آف پرسنیل سروسز وائس ایڈمرل سورج بیری اور فلپ کارٹ کے  سینئر نائب صدر رجنیش کمار نے معاہدے پر دستخط کیے۔ اس موقع پر بھارتی بحریہ اور فلپ کارٹ کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔

آئی این پی اے، فلپ کارٹ کے بھرتی کے معیار کے مطابق ملازمتوں کے لیے سابق فوجی امیدواروں کی اہلیت کی بنیاد پر ان کا انتخاب کرے گی جبکہ فلپ کارٹ ان افسران کو تربیتی پروگرامز کے ذریعے کارپوریٹ سیکٹر میں منتقل کرنے کے قابل بنائے گی۔

فلپ کارٹ اس پروگرام کو اپنے "Diversity and Inclusion Charter” کے تحت انجام دے رہا ہے جس کا مقصد سابق فوجیوں کو ان کی قابلیت، تجربے اور عسکری سروس کے دوران حاصل کردہ خصوصیات کے مطابق مواقع فراہم کرنا ہے۔

اس موقع پر کمپنی کے سینئر نائب صدر رجنیش کمار نے کہا کہ "بحیثیت ملک ہم مسلح افواج کی بہادری سے ادا کی گئی خدمات پر اُن کے مقروض ہیں، فلپ کارٹ کا مقصد سابق فوجیوں کو کارپوریٹ سیکٹر میں ملازمت کے مواقع ڈھونڈنے کے لیے ایک راستہ بنانا ہے”۔

 وائس ایڈمرل سورج بیری نے کہا کہ "آئی این پی اے ہمارے سابق فوجیوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے، ہماری کوشش ہے کہ فوجیوں کیلیے قوم کی خدمت کے بعد روزگار کے مواقع تلاش کریں”۔

یہ بھی پڑھیے

کیپٹن صفدر کی گرفتاری کا معاملہ افواج پاکستان کا راست اقدام

ہمسایہ ملک بھارت میں سابق فوجی افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد ملازمتوں کے حصول میں آسانی فراہم کرنے کیلیے باقاعدہ ادارے تشکیل دئیے گئے ہیں جس کی ایک مثال انڈین نیول پلیسمنٹ ایجنسی ہے۔

پاکستان میں عسکری سروس مکمل کرنے کے بعد ریٹائر ہونے والے افسران کو ان کی قابلیت اور اہلیت کی بنیاد پر حکومتی عہدوں پر منتخب کیا جائے تو کئی حلقے اس اقدام پر شدید تنقید کرتے ہیں۔

ایک مخصوص طبقہ کا خیال ہے کہ فوجی افسران سرکاری ملازمت میں اچھی تنخواہ اور مراعات پاتے ہیں لیکن ریٹائر ہونے پر انہیں حکومتی یا نجی اداروں میں بھرتی کے دوران ترجیح دینا دیگر امیدواروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

Facebook Comments Box