ایران نے عبوری افغان حکومت میں اپنی پراکسیز شامل کروا دیں
دو اہم سیکیورٹی کی وزارتیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اتحادیوں نے سنبھال لی ہیں، کامران بخاری

ایران، افغانستان کی عبوری حکومت میں اپنی پراکسیز شامل کرانے میں کامیاب رہا، یہ کہنا ہے کامران بخاری کا جو کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں اور دفاعی و خارجہ پالیسی کے تھنک ٹینک Stratfor سے وابستہ رہ چکے ہیں۔
کامران بخاری کے مطابق طالبان کی عبوری حکومت میں دو اہم سیکیورٹی کی وزارتیں ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے اتحادیوں نے سنبھال لی ہیں۔
کامران بخاری نے لکھا کہ ڈپٹی وزیر دفاع ملا عبدالقیوم ذاکر اور ڈپٹی وزیر داخلہ صدر ابراہیم دونوں شخصیات پاسدارانِ انقلاب کے قریب ہیں۔
Most significant is that the IRGC’s allies have a serious ‘piece of the action’ in the two main security portfolios of the Taliban provisional gov.
Mullah Abdul Qayyum Zakir is dep defense minister & Sadr Ibrahim got the dep interior ministership
— Kamran Bokhari (@KamranBokhari) September 21, 2021
پنجشیر سے تعلق رکھنے والے ایک تاجک شہری کو کامرس کا نگران وزیر بنایا گیا ہے جبکہ بغلان کے ازبک کاروباری شخص کے پاس نائب وزارت کامرس ہے اور کامرس کے دوسرے ڈپٹی منسٹر بھی شمالی صوبے سرائے پل سے ہیں۔
امریکی تھنک ٹینک کے سابق سربراہ کے مطابق تمام اہم وزارتیں شمالی صوبوں سے تعلق رکھنے والوں کو دی گئی ہیں، شعبہ کامرس کی اہمیت ایران کے لیے یوں بھی زیادہ ہے کیونکہ اس کا تجارتی مال افغانستان میں فروخت ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
معتبر بھارتی تجزیہ کار بھی افغانستان میں پاکستانی فتح کے معترف
مزید برآں، شیعہ ہزارہ کمیونٹی کو بھی عبوری کابینہ میں ڈپٹی ہیلتھ منسٹر کی صورت میں نمائندگی دی گئی ہے۔ افغانستان میں رہائش پذیر تینوں اقلیتی گروہوں کو عبوری سیٹ اپ میں برائے نام نمائندگی ملی ہے۔
کامران بخاری کا کہنا ہے کہ شمالی علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے میں مدد کرنے پر طالبان ان علاقوں سے وزرا کا انتخاب کرکے خیرسگالی کا پیغام دے رہے ہیں۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بریگیڈئیر جنرل اسماعیل قانی نے کئی برس تک ایران کے مشرقی حصے پر توجہ دی جبکہ ان کے ساتھی افسران کی توجہ عرب ممالک پر تھی۔
کامران نے لکھا کہ طالبان کی موجودہ عبوری حکومت میں پاکستان اور ایران کے حمایت یافتہ افراد کی شمولیت سے توازن پیدا ہوگیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کا افغانستان کے معاملات پر کس حد تک اثرورسوخ ہے۔
The Taliban acting cabinet now represents a Pakistan-Iran balance of power of sorts in Afghanistan – one that underscores the relative influence the two countries have in the southwest Asian nation.
— Kamran Bokhari (@KamranBokhari) September 21, 2021









