9 سالہ طالبہ کا زیادتی کے بعد قتل، عدالت نے 2 مجرموں کو سزائے موت سنا دی
رواں سال مارچ میں مجرموں نے زینت عمران کو جنسی زیادتی کے بعد گلا دبا کر قتل کردیا تھا۔
راولپنڈی: ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے تیسری جماعت کی 9 سالہ طالبہ زینب عمران کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کرنے کا الزام ثابت ہونے پر دو مجرموں کو سزائے موت اور شریک مجرمہ کو جرم چھپانے کی پاداشت میں 7 قید سال کی سزا سنا دی۔
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکہ نے فیصلہ سناتے ہوئے ریمارکس دیے کہ زیادتی اور قتل کیس کے مجرموں کو 2 ، 2 بار سزائے موت اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانہ کیا جاتا ہے جبکہ مجرم بابر مسیح کی اہلیہ کو جرم چھپانے کے الزام میں 7 سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسلام آباد پولیس کی کارروائی،30 کلو منشیات برآمد، 5ملزمان گرفتار
ایف آئی اے سائبر کرائم کی کارروائی، بچوں کی بلو فلیمیں بنانے والا گروہ گرفتار
یہ سفاکانہ واقعہ راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے گنجان آباد علاقہ جھنڈا چیچی میں رواں سال 22 مارچ کو پیش آیا۔ طالبہ گھر سے پیسے لے کر دکان پر چیز لینے جارہی تھی کہ مجرم بابر مسیح نے دھوکہ سے گھر بلایا اور کمرہ بند کر کے جبری زیادتی کی پھر دوسرے مجرم عدنان نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور پھر دونوں نے مل کر طالبہ کو گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔ وقوعہ کے وقت مجرم بابر مسیح کی اہلیہ انیتا عرف انیقہ بھی گھر موجود تھی تاہم اس نے نہ شور مچایا اور نہ بچی کو بچانے کی کوشش کی۔
عدالت نے قرار دیا جب تک مجرمان کی موت واقع نا ہو جائے انہیں پھانسی پر لٹکائے رکھا جائے یہ انتہائی گھناؤنا جرم ہے مجرمان کسی رعایت کے مستحق نہیں۔
عدالتی فیصلے کے بعد تینوں مجرمان کو اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا۔
واضح رہےکہ اس واقعےکے بعد راولپنڈی میں ہنگامے شروع ہوگئے تھے ہزاروں شہریوں نے زبردست احتجاج کرتے نماز جنازہ تھانہ سول لائن سامنے ادا کی تھی۔
پولیس کے مطابق مجرمان نے نعش چارپائی کے نیچے چھپا دی تھی تاہم واقعے کے بعد مجرم بابر کی اہلیہ گھر کو تالا لگا کر فرار ہو گئی تھی جبکہ مجرم بابر نشہ کرکے پلنگ پر سو رہا تھا۔ گھر والوں کی درخواست پر تالا توڑا تو پلنگ کے نیچے سے لاش برآمد ہوئی تھی۔









