ظاہر نے نور کو کیسے قتل کیا؟کیس کی ویڈیو ٹرانسکرپٹ عدالت میں پیش

پاکستان کے سابق سفیر شوکت مقدم کی بیٹی نور مقدم کو 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش علاقے میں بےدردی سے قتل کردیا گیا تھا۔

نور مقدم قتل کیس میں انتہائی اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ استغاثہ نے جائے وقوعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا ٹرانسکرپٹ سیشن کورٹ میں جمع کرا دیا جس میں  نور مقدم کے قتل کی تفصیلی  منظر کشی کی گئی ہے ۔

ایڈیشنل سیشن جج عطا ربانی کی عدالت میں جمع کرائے گئے ٹرانسکرپٹ کے مطابق ڈی وی آر کیمرے کی گھڑی پاکستان کے معیاری وقت سے 35 منٹ آگے تھی۔ ٹرانسکرپٹ کے مطابق 18 جولائی کو رات 10 بجکر 18 منٹ پر مقتولہ نور مقدم فون سنتے ہوئے مرکزی ملزم ظاہر ذاکر جعفر کے گھر میں داخل ہوئی۔

یہ بھی پڑھیے

ایف آئی اے کی کارروائی، خواتین کے ذریعے بلیک میل کرنے والا گروہ گرفتار

تھانہ شاہ لطیف ٹاؤن پولیس کی کارروائی، 7 ملزمان گرفتار

ٹرانسکرپٹ کے مطابق 19 جولائی رات 2 بجکر 39 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم بیگ لے کر گیٹ سے نکلتے نظر آتے ہیں اور گھر کے مرکزی دروازے کے باہر ٹیکسی میں سامان رکھ کر دوبارہ گھر میں داخل ہو جاتے ہیں۔ رات 2 بجکر 41 منٹ پر نور مقدم انتہائی گھبراہٹ اور خوف میں ننگے پاؤں گیٹ کی طرف بھاگ کر آتی ہیں جبکہ مقتولہ کے باہر آنے پر چوکیدار افتخار گیٹ کو بند کرتا نظر آتا ہے۔

اس دوران ظاہر جعفر گھر سے جلدی میں گیٹ پر آکر نور مقدم کو دبوچ لیتا ہے اور نور مقدم ہاتھ جوڑ کر مرکزی ملزم کی منت سماجت کرتی نظر آتی ہے۔ ظاہر جعفر اس کی پرواہ کیے بغیر نور مقدم کو زبردستی کھینچ کر گھر کے اندر لے جاتا ہے۔

ٹرانسکرپٹ کے مطابق رات 2 بجکر 46 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم گھر سے نکل کر مین گیٹ پر آتے ہیں اور دونوں گیٹ سے باہر گلی میں سامان والی ٹیکسی میں بیٹھ کر چلے جاتے ہیں۔

عدالت میں جمع کرائے گئے ٹرانسکرپٹ کے مطابق رات 2 بجکر 52 منٹ پر ظاہر جعفر اور نور مقدم واپس آتے ہیں اور بیگ لیکردوبارہ اس گھر میں داخل ہوتے ہیں، اس دوران گھر کے صحن میں چوکیدار اور کالے رنگ کا کتا بھی نظر آتا ہے۔

ٹرانسکرپٹ کے مطابق 20 جولائی کو شام 7 بجکر 12 منٹ پر نور مقدم فرسٹ فلور سے چھلانگ لگا کر گھر کے صحن میں لگے جنگلے پر گرتی  ہے۔ اس دوران نور مقدم کے ہاتھ میں موبائل فون بھی ہوتا ہے وہ لڑکھڑاتی ہوئی مرکزی دروازے کی طرف جاتی ہے

ٹرانسکرپٹ کے مطابق نور مقدم باہر جانے کی کوشش کرتی ہے مگر چوکیدار افتخار اور مالی گیٹ بند کرتے نظر آتے ہیں اور اس دوران ظاہر جعفر گھر کے فرسٹ فلور کے ٹیرس سے چھلانگ لگا کر گراؤنڈ فلور پر آتا ہے اور دوڑ کر نور مقدم کو دبوچ  کر گیٹ کے ساتھ بنے کیبن میں بند کردیتا ہے۔ اس دوران ملزم کو کیبن کھول کر نور مقدم کا موبائل فون چھینتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بعدازاں ملزم ظاہر جعفر، نور مقدم کو کیبن سے نکال کر گھر کے اندر زبردستی گھسیٹ کر لے جاتا ہے۔

ٹرانسکرپٹ کے مطابق 20 جولائی 8 بجکر 6 منٹ پر تھراپی ورکس کی ٹیم گھر کے گیٹ سے اندر آتی ہے، تھراپی ورکس کی ٹیم 8 بجکر 42 منٹ پر گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے۔ بعدازاں 8 بجکر 55 منٹ پر تھراپی ورکس کی ٹیم ایک زخمی کو گھر سے باہر گیٹ کی طرف لے جاتے نظر آتے ہیں۔ خیال رہے کہ 20 جولائی کو اسلام آباد کے پوش سیکٹر ایف ۔7/4 کے رہائشی سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی بیٹی 27 سالہ نور کو قتل کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ تحاریر