نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود1فیصد اضافے کےبعد 9.75 فیصد ہوگئی
آخری بار مانیٹری پالیسی کا اعلان 19 نومبر کو کیا گیا تھا جس میں شرح سود 150 بیسس پوائنٹس یا 1.5 فیصد بڑھائی گئی تھی
اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق شرح سود میں 100 بیسز پوائنٹس کا اضافہ کیا گیا ہےجس کے بعد شرح سود 8.75 فیصد سے بڑھ کر9.75 فیصد ہوگئی۔
اسٹیٹ بینک اعلامیے کے مطابق زرعی شعبے کی نمو مضبوط نظرآتی ہے اور معاشی نمو 4 سے 5 فیصد اندازے کی اوپری سطح کے قریب ہوگی، معاشی نمو کے اندازوں میں آج شرح سود کا اضافہ شامل کرلیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اومی کرون پر تاحال اس کی شدت کی معلومات کم ہے، کمیٹی سمجھتی ہے کہ پاکستان نے وبا کی دیگر قسموں کا مقابلہ کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹیٹ بینک کی نئی مانیٹری پالیسی ، شرح سود میں 1.5 فیصد اضافہ
بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگے گا، چیئرمین ایف بی آر
اسٹیٹ بینک کی جانب سے آخری بار مانیٹری پالیسی کا اعلان 19 نومبر کو کیا گیا تھا جس میں شرح سود 150 بیسس پوائنٹس یا 1.5 فیصد بڑھائی گئی تھی جس کے بعد سود کی شرح 8.75 فیصد ہوگئی۔
نومبر میں مہنگائی کی شرح 11.5 فیصد تھی جو گزشتہ 20 ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔ کراچی چیمبر نے شرح سود میں اضافہ نہ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شرح سود میں اضافے سے کاروباری سرگرمیاں جمود کا شکار ہوں گی۔
واضح رہے کہ شرح سود میں اضافے کے امکانات اس وقت مزید بڑھے جب اسٹیٹ بینک کی جانب سے یکم دسمبر کو جو ٹریژری بلز جاری ہوئے اس پر کامیاب آکشنز کے نتائج کے مطابق 3 ماہ کے ٹی بلز پر منافع کی شرح 10.39 فیصد اور 6 ماہ کے ٹی بلز پر 11.05 فیصد کی گئی۔ اسکے علاوہ ایشیائی ترقیاتی بینک نے سپلیمنٹری آوٹ لک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے جس کی وجہ سے مقامی قیمتوں پر دباو میں اضافے کا امکان ہے۔









