امریکی حکومت سے فراڈ، پاکستانی نژاد شہری کو 5 سال قید
رانا اظہر سرور نے کورونا قرضہ اسکیم کے ذریعے جعلی کمپنی بنا کر 55 لاکھ ڈالر سے زائد قرض لیا، قید بھگتنے کے ساتھ رقم بھی واپس کرنا ہوگی۔

امریکی ریاست نیو جرسی کے ایک شہری نے دھوکہ دہی کرکے کورونا وائرس قرضہ اسکیم کے ذریعے وفاقی حکومت سے لاکھوں ڈالر کا قرضہ لیا جسے 5 سال اور 4 ماہ قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔
31 سالہ پاکستانی نژاد امریکی شہری اظہر سرور رانا کو 5.58 ملین ڈالر سے زائد رقم بھی واپس کرنا ہوگی اور 5 سال قید بھی بھگتنی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیے
اداکارہ صباقمر ’’فراڈ ‘‘ کرنے کو تیار
کیا پاکستانی پروفیسرز "اکیڈمک فراڈ” کر رہے ہیں؟
رانا نے اپنی جعلی کمپنی ‘اظہر سرور رانا ایل ایل سی’ کے لیے 10 ملین ڈالر کا پےچیک پروٹیکشن پروگرام قرضہ حاصل کیا تھا جب انہوں نے 6 اپریل 2020 کو جعلی پےرول رپورٹس اور ٹیکس دستاویزات جمع کروائے تھے۔
رانا کو مئی 2020 میں 56 لاکھ ڈالر سے زائد رقم دی گئی تاکہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں دے سکیں، جن ملازمین کو رانا کی جعلی کمپنی نے تنخواہیں دیں ان میں سے اکثر کے سوشل سیکیورٹی نمبر غلط تھے۔
بعد ازاں رانا نے ان پیسوں کو ذاتی اخراجات کے لیے استعمال کیا، بی ایم ڈبلیو سے 13 ہزار ڈالر کی کار خریدی، انہوں نے لاکھوں ڈالر پاکستان اور دوسرے ممالک میں اپنے اہلخانہ کو بھیجے۔
حکام نے رانا کو پاکستان روانہ ہونے سے صرف چند گھنٹے قبل 12 دسمبر 2020 کو گرفتار کیا۔
پےچیک پروٹیکشن پروگرام کے تحت کورونا وائرس سے متاثرہ کاروبار اور کمپنیز کو بذریعہ آسان قرض رقوم فراہم کرنا تھا تاکہ وہ اپنے ملازمین کو تنخواہیں دے سکیں، گھر کا کرایہ اور بل ادا کرسکیں لیکن پاکستانی نژاد امریکی شہری نے جعلی کمپنی بنا کر امریکی حکومت کے ساتھ لاکھوں ڈالر کا فراڈ کیا۔









