ایران نے سعودی عرب کو سفارتخانہ کھولنے کی اجازت دے دی
سعودی وزیرخارجہ کہتے ہیں ہم مسائل کو سفارت کاری کے ذریعہ حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں

چند روز قبل سعودی عرب کی جانب سے ایران کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی ) میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت کے بعد ایرانی سفارتکار اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے سعودی عرب پہنچ گئے تھے، دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی شدت میں غیرمعمولی پیشرفت سے خوش آئند نتائج کی توقع کی جارہی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایاگیا ہے کہ ایران نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ صورتحال کو معمول پر لانے کے اقدامات کے تحت سعودی عرب کو تہران میں سفارتخانہ کھولنےکی دعوت دے دی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ امیر عبد الہیان کہتے ہیں کہ جب بھی سفارتی تعلقات معمول پر لانے کی خواہش ہو تو سعودی عرب کے لیے ایران کے دروازے کھلے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ایرانی جنرل پر قاتلانہ حملے میں اسرائیل ملوث تھا، سابق انٹیلیجنس چیف
ایران میں اساتذہ کا ملک گیر احتجاج، 28 صوبوں میں ایمرجنسی نافذ
ایرانی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ دونوں ملک سفارت خانےکھولیں اور تعلقات بحال کریں اور انہیں مزید بہتر بنائیں یہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور ایران سمجھتا ہے کہ یہی درست وقت ہے کہ اختلافات کو ختم کیا جائے اور خطے کی تعمیر اور ترقی میں اپنا اپنا کردار ادا کیا جائے ۔
واضح رہے کہ سعودی عرب اور ایران اختلافات کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ نوعیت کے اقدامات پر غور کررہے ہیں اس حوالے سے سعودی عرب کے وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود نے برطانوی روزنامے فائنانشیل ٹائمز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کا کہنا تھا کہ ان کا ملک ایران کے ساتھ با ت چیت کے لیے ‘سنجیدہ’ ہے۔ سعودی عرب جدہ میں ایرانی قونصل خانے کو دوبارہ کھولنے پر غور کر رہا ہے تاہم ابھی اس پر حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے ، انھوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ اب تک ہونے والی بات چیت ‘خوشگوار‘ رہی ہے اوراس کی نوعیت بڑی حد تک ایک دوسرے کو ’سمجھنے‘ کی کوشش ہے۔
فیصل بن فرحان السعودنے مزید کہا تھا کہ ،”ہم بات چیت کے سلسلے میں سنجیدہ ہیں۔ ہمارے لحاظ سے یہ کوئی بڑی تبدیلی نہیں ہے۔ ہم ہمیشہ کہتے رہے ہیں کہ اس خطے میں استحکام کے لیے راستہ تلاش کرنا چاہتے ہیں۔” بات چیت کے لیے یہ مناسب وقت ہے فیصل بن فرحان السعود نے سعودی عرب کے عملا ً حکمراں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ویژن 2030 کے حوالے سے کہا”سعودی قیادت کے سامنے ملک کی خوشحالی اورتعمیر کو ترجیح دینے کے حوالے سے ایک واضح پالیسی ہے، ویژن 2030، لیکن اگر خطے میں کشیدگی ہو تو آپ اس پر عمل درآمد نہیں کرسکتے۔ اس لیے جہاں ہم ایک طرف اپنی قومی سلامتی اور خود مختاری کا پوری طاقت کے ساتھ دفاع کرتے ہیں وہیں ہم ان مسائل کو سفارت کاری کے ذریعہ حل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔”









