کُرتاپاجامہ کو مہاجر لباس قرار دینا، خواجہ اظہار کے گلے آگیا

خواجہ اظہار نے کہا تمام ٹیمزکو پاکستان سپر لیگ کیلئے کراچی میں خوش آمدید تمام مہمان مہاجر لباس میں بے حد پرکشش لگ رہے ہیں

دنیا کی مختلف جگہوں پر رہنے والوں کے رہن سہن اور رنگ ڈھنگ بوجوہ جداگانہ ہوتے ہیں ان کی ثقافت بھی اپنے آپ الگ ہوتی برِصغیر پاک وہند کو دنیا کا ایک متنوع ترین خطہ شمار کیا جاتا ہے،جہاں قسم قسم کے لوگ اور مختلف  اقسام کی ثقافت پائی جاتی ہے۔

اس ثقافتی تنوع کو 1947ء میں برِصغیر پاک و ہند کے بٹوارے سے جُڑی ہوئی ہجرت نے ایک عجیب ہی واقعے سے دوچار کیا۔برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن ’پاکستان‘ قائم ہوا اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے اس ملک کی جانب ایک عظیم ہجرت عمل میں آئی اور لاکھوں افراد اپنی ثقافت کو بھول کر نئی ثقافت میں سماگئے  تاہم حیدر آباد، کراچی اور اندرونِ سندھ میں ہجرت کرکے آنیوالے افراد اپنے جداگانہ رنگ ڈھنگ اور طور طریقوں کو محفوظ رکھنے میں کامیاب ہوئے جنھیں آج مہاجر کہا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ نے بے وقت کی راگنی چھیڑ دی

منقسم مہاجر ووٹوں کو اکٹھا کرنے کا ٹاسک کس نےدیا؟میدان سیاست میں ہلچل بپا

ملک میں  مہاجروں کو پانچویں قومیت قرار دیا جانے لگا ہے تاہم سیاسی بنیادوں پر اس پر اختلاف ہے جس سے اختلاف کرتے ہوئے آج بھی بہت سے لوگ ان کی ثقافت کے حوالے سے استفسار کر رہے ہیں کہ کیا کُرتا، پاجامہ، شیروانی اور پان ہی ’مہاجر ثقافت‘ ہے؟  اس بات کو تقدیت ایم کیو ایم کے رکن رابطہ کمیٹی خواجہ اظہارالحسن کے گذشتہ روز کے ٹوئٹ سے بھی ملی جس پر سوشل میڈیا صارفین نے تنقید کی ۔

ایم کیوایم پاکستان کے رکن رابطہ کمیٹی و ممبر صوبائی اسمبلی خواجہ اظہارالحسن نے  سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پاکستان سپر لیگ پی ایس ایل کے  کمنٹری پینل کی  ایک گروپ فوٹو شیئر کی جس میں تمام افراد کرتا پاجامہ پہنے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں ، اظہار الحسن نے تصویر  کے ساتھ لکھا کہ تمام ٹیمزکو پاکستان سپر لیگ کیلئے کراچی میں خوش آمدید تمام مہمان مہاجر لباس میں بے حد پرکشش لگ رہے ہیں۔

خواجہ اظہار الحسن کے اس پیغام پر سوشل میڈیا صارفین نے  کڑی تنقید کی ، بعض نے اس کو مہاجر نہیں بلکہ ہندوستانی لباس قرار دیا تو بعض کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو اب ہندوستانیوں کے بجائے پاکستانی بن کر سوچنا چاہئے ، ایک صارف کا کہنا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا لباس دیکھا جائے وہ کرتا پاجامہ پہنتے ہیں  جبکہ بعض نے خواجہ اظہار الحسن کے اس ٹوئٹ کو تعصب پر مبنی قرار دیا ۔

متعلقہ تحاریر