جماعت اسلامی کے بعد سندھ حکومت کو پی ایس پی اور ایم کیو ایم کے دھرنوں کا سامنا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کراچی کی دیگر سیاسی جماعتوں کو جماعت اسلامی کا ساتھ دینا چاہیے تھا تاکہ سندھ حکومت پر مزید دباؤ آتا اور مزید سخت شرائط پر معاہدہ طے پاتا۔
مرحوم شاعر منیر نیازی کا مشہور شعر !!! اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو ۔۔۔۔ میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا!!! سندھ حکومت کی موجودہ صورتحال پر صادق آتا ہے ۔ تین روز قبل سندھ حکومت کی جانب سے متنازعہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم پر رضامندی کے بعد جماعت اسلامی (جے آئی) نے جمعہ کو سندھ اسمبلی کے باہر اپنا 29 روزہ دھرنا ختم کرنے پر اتفاق کیا تھا کہ دو روز قبل پاک سرزمین پارٹی نے اس معاہدے کو مسترد کرتے ہوئے گورنر ہاؤس کے سامنے زبردست احتجاج کے بعد دھرنا دے دیا ہے۔
دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی قومی اداروں کو تباہ کرنے کے بعد وسائل کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سینیٹ سے اسٹیٹ بینک بل کی منظوری، یوسف رضا گیلانی نے حکومتی قرض چکا دیا
بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ پی ٹی آئی کے لیے اہم ہے، پرویز خٹک
سربراہ پی ایس پی نے فوارہ چوک پر احتجاجی دھرنے کے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عوام کی بہتری کے لیے نکلے ہیں، ملک کی خوشحالی کے لیے کراچی کے نوجوانوں کا بہت بڑا کردار ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی جماعت سندھ کے متنازعہ لوکل گورنمنٹ قانون کو قبول نہیں کرتی۔
سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ این ایف سی کی جانب سے دی گئی رقم کو اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ سندھ کو 56 فیصد میں سے 27 فیصد ملتا ہے۔ وزیر اعلیٰ سندھ کو ہر سال 1000 ارب روپے ملتے ہیں۔ وہ ٹیکسوں کے ذریعے 200 ارب روپے مزید حاصل کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ 1200 ارب روپے سندھ حکومت کا سالانہ ریونیو ہے۔ یہ 1200 ارب وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ اکیلے خرچ کر رہے ہیں۔ وہ وسائل مقامی حکومتوں کو منتقل نہیں کر رہے۔
پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پی ایس پی صرف اقتدار نہیں اداروں کےلیے وسائل چاہتی ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد پیپلز پارٹی نے سندھ کا پیسہ اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

واضح رہے کہ تین روز قبل سندھ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان سندھ لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ پر ایک معاہدہ طے پا گیا تھا۔ سندھ حکومت کے نمائندے سید ناصر حسین شاہ نے تفصیلات پڑھ کر سناتے ہوئے کہا کہ معاہدے کے مطابق، تعلیم اور صحت کے شعبوں کے تمام محکمے بشمول اسپتال اور ڈسپنسریاں کراچی میونسپل کارپوریشن (KMC) کے حوالے کر دی جائیں گی۔
معاہدے کے مطابق کراچی کے میئر واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے چیئرپرسن ہوں گے کیونکہ حکومت نے بلدیاتی حکام کے اختیارات بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی جو ایکٹ میں پہلے کم کی گئی تھی۔
معاہدے کے تحت سندھ حکومت نے صوبائی مالیاتی کمیشن (پی ایف سی) بورڈ کو بلدیاتی انتخابات کے بعد 30 دنوں کے اندر تشکیل دینے پر بھی اتفاق کیا۔ بلدیاتی اداروں کی موجودہ مدت ختم ہونے کے بعد انتخابات 90 دن کے اندر کرائے جائیں گے۔

دوسری جانب متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فیصل سبزواری نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کے میچز جیسے ہی کراچی سے لاہور شفٹ ہوں گے ، ہم سندھ لوکل گورنمنٹ بل کے خلاف میدان میں آئیں گے اور دھرنا دیں گے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی کے کامیاب دھرنے کےبعد دیگر جماعتیں بھی اس لیے میدان کا رخ کررہی ہیں وہ سمجھتی ہیں کہ اس متنازعہ بل پر جماعت اسلامی کامیابی انہیں سیاسی طور پر بلدیاتی انتخابات میں نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے کٹا کر انگلی شہیدوں میں نام کروا لیتے ہیں۔ کیونکہ جو معاہدہ ہونا تھا وہ تو ہو گیا۔
تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کراچی کی سیاسی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ آپسی اختلاف کو بھلا کر جماعت اسلامی کا ساتھ دیتے تاکہ سندھ حکومت پر زیادہ دباؤ آتا اور جو معاہدہ 29 روز بعد ہوا وہ جلد ہو جاتا اور زیادہ مضبوط معاہدہ ہوتا۔ تاہم اس ساری صورتحال میں جماعت اسلامی جیسا صبر و استقلال کسی بھی جماعت میں ہے۔ پرامن احتجاج خواتین ، بچوں اور بڑھوں کے ساتھ وہ بھی سخت سردی میں۔









