پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز کی مایوس کن کارکردگی کی وجوہات

کراچی کنگز ہوم گراؤنڈ پر ایونٹ کے پہلے تینوں میچز میں ملتان سلطانز ، کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور لاہور قلندرز سے شکست کھا کر بیس لائن پر موجود ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے کرکٹ ایونٹ ایچ بی ایل پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) سیزن سیون کے دلچسپ اور شاندار مقابلوں کا سلسلہ جاری ہے۔ 2020 میں پی ایس ایل ایونٹ کا ٹائٹل اپنے نام کرنے والی کراچی کنگز کی ٹیم رواں سیزن میں اپنے پہلے تینوں میچز ہار گئی ہے، جس کی چند ایک بنیادی وجوہات ہیں۔

27جنوری کو ایونٹ کے افتتاحی میچ میں کراچی کنگز کا آمنا سامنا ملتان سلطانز سے ہوا۔ ملتان سلطانز کے باؤلر نے کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم سمیت کسی بلے باز کی چلنے نہیں دی اور مقررہ 20 اوورز میں کراچی کنگز کو 124 رنز تک محدود کردیا۔ جواب میں ملتان سلطانز نے مطلوبہ ہدف 18.2 اوورز میں 3 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

یہ بھی پڑھیے

پی ایس ایل: اسلام آباد یونائیٹڈ نے پشاور زلمی کو شکست دے دی

پشاور زلمی کے آفیشل اینتھم کا شائقین کے دلوں راج

29 جنوری کو کراچی کنگز کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے خلاف میدان میں اتری۔ مگر اس مرتبہ بھی شکست نے کراچی کنگز کا ساتھ دیا۔ ساری ٹیم 17.3 اوورز میں 113 رنز بنا کر پویلین لوٹ گئی کپتان بابر اعظم اس مرتبہ بھی کچھ اچھا پرفارم نہ کرسکے اور 32 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے بلے بازوں نے کراچی کنگز کے باؤلرز کی ایک نہ چلنے دی اور مطلوبہ ہدف 15.5 اوورز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

30 جنوری اتوار کے روز کراچی کنگز کا مقابلہ روایتی حریف لاہور قلندرز کے ساتھ تھا۔ اس میچ میں کراچی کنگز کے بلے بازوں نے بہتر پرفارم کیا اور مقررہ 20 اوورز میں 7 وکٹوں کے نقصان پر 170 رنز اسکور کیے۔ کراچی کنگز کے شرجیل خان اور بابر اعظم نے بالترتیب 60 اور 41 رنز اسکور کیے۔ جواب میں لاہور قلندرز کے بلے باز فخر زمان نے کراچی کنگز کے باؤلر کی خوب دھلائی کی اور 60 گیندوں پر 106 رنز کی شاندار اننگز کھیلی ۔ ان کی اننگز میں 4 چھکے اور 12 چوکے شامل تھے، اس طرح لاہور قلندرز نے مطلوبہ ہدف 19.2 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

کراچی کنگز کی کپتانی اور ہار کا سلسلہ

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کے لیگ میں بھارت کو دھول چٹانے والے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم ان کی بہترین کارکردگی کی وجہ سے کراچی کنگز کا کپتان مقرر کیا گیا۔ اس سے قبل ٹیم کی قیادت عماد وسیم کے ہاتھوں میں تھی۔

مذکورہ بالا تین میچز کی مختصر تفصیل کے بعد لگتا ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہ سکتا اگر ٹیم نے اپنے گول پر نظر نہ رکھی۔

کراچی کنگز کے ہارنے کی بنیادی وجوہات

کرکٹ پنڈتوں کا کہنا ہے کہ چار وجوہات سمجھ میں آتی ہیں جس کی وجہ سے کراچی کنگز کی ٹیم ابھی تک ایونٹ میں ناکام ہے۔

ٹاپ آرڈر پر ضرورت سے زیادہ انحصار

ایسا لگتا ہے کہ کراچی کنگز کے پاس بابر اعظم اور شرجیل خان کے علاوہ کوئی قابل قدر بلے باز نہیں ہے جس کی وجہ سے کراچی کنگز کا بورڈ دونوں پر بہت زیادہ انحصار کررہا ہے۔ بعد میں آنے والے بلے باز رنز بنانے سے زیادہ تیز رنز بنانے کے چکر میں پویلین لوٹ جاتے ہیں ، بلے باز کوئی ہدف طےکر کے گراؤنڈ میں نہیں آتے جس کی وجہ سے وہ ناکام ہو رہے ہیں۔

بابر اعظم بطور کپتان اور بلے باز

کراچی کنگز کے کپتان بابر اعظم اس کوشش میں مصروف ہیں کہ وہ اپنی شناخت کو برقرار رکھ سکیں ، کیونکہ کراچی کنگز کے بورڈ نے انہیں ایک بہترین بلے باز کے طور پر اپنی  ٹیم میں سلیکٹ کیا ہے۔ شائد توقعات سے زیادہ امیدیں بھی بابر اعظم کی خراب کارکردگی کی وجوہات ہیں۔ 27 سالہ نوجوان پاور پلے میں اسکور نہیں کر پا رہے، جب انہیں ہارڈ ہٹنگ موڈ میں ہونا چاہیے، ان کا مقصد دوسرے بلے بازوں کے مقابلے میں لمبی اننگز کھیلنا ہے۔

مڈل آرڈر کی ناکامی۔

بابر اور شرجیل پر بہت زیادہ انحصار اور بعد میں آنے والے بلے بازوں پر دباؤ کم کرنے کے لیے کافی اسکور حاصل کرنے میں ناکامی کی وجہ سے کراچی کنگز کا مڈل آرڈر مسلسل گرتا جا رہا ہے۔

مڈل آرڈر کا کوئی بھی کھلاڑی انفرادی طور پر 30 رنز سے زیادہ رنز ابھی تک حاصل نہیں کر پایا ، اس لیے جیسے ہی شرجیل خان اور بابر اعظم آؤٹ ہوتے ہیں ٹیم کی بیٹنگ لائن لڑکھڑا جاتی ہے۔

محمد عامر کی عدم موجودگی

کراچی کنگز کے غیرمعمولی فاسٹ باؤلر محمد عامر کی کمی بھی شدت سے اسکواڈ کو محسوس ہورہی ہے۔ محمد عامر ٹورنامنٹ کے سب سے زیادہ وکٹیں لینے والے کھلاڑیوں میں شامل ہیں، لیکن بدقسمتی وہ ٹورنامنٹ کے پہلے میچ سے چند گھنٹے قبل زخمی ہونے کی وجہ ٹیم کو دستیاب نہیں ہیں۔

متعلقہ تحاریر