پیپلز پارٹی سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ (ن) مزید مشکلات کا شکار

سابق وزیراعظم اور ن لیگ کے سینئر رہنما شاہد خاقان عباسی نے بڑوں کی ملاقات پر تحفظات کا اظہار کردیا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے آج پارٹی کی سی ای سی میٹنگ کال کر رکھی ہے، تاہم پیپلز پارٹی کی قیادت کے ساتھ ملاقات کی اندرونی کہانی کے مطابق ن لیگ کی پوزیشن مزید کمزور ہو گئی ہے۔

نیوز 360 کے ذرائع کے مطابق ن لیگ اور پی پی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے شہباز شریف کو اپنے لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دی ، اس موقع پر ن لیگ کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم آپ کے لانگ مارچ کا ساتھ دینے کو تیار مگر ہماری شرط یہ ہے کہ لانگ مارچ کے اختتام پر دھرنا دیا جائے گا ، جس پر دونوں پارٹیاں مخمصے کا شکار ہوگئیں۔

یہ بھی پڑھیے

کشمیر کی آزادی کے لیے جان دینے والے شہداء کو سلام، گورنر سندھ

مقبوضہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ، بھارت کا درد سر

ذرائع کے مطابق شہباز شریف نے اس بات پر راضی مندی ظاہر کی کہ ن لیگ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کا استقبال کرسکتی ہے۔

نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے ملاقات میں میاں شہباز شریف نے بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کو باور کرایا کہ پی ٹی آئی کے 20 کے قریب ایم این ایز ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں ، اس لیے ہمیں قومی اسمبلی میں حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لے کر آنی چاہیے۔

جس پر سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ اگر آپ کے پاس پی ٹی آئی کے 20 ایم این ایز ہیں تو ہر بل پر ہمیں اسمبلی کے اندر شکست کا سامنا کیوں کرنا پڑا ہے۔

نیوز 360 کے ذرائع کا کہنا ہے کہ دھرنے کی بات جواز بنا کر بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے آپ پنجاب میں تحریک عدم اعتماد لے آئیں ہم دھرنا دے دیں گے۔

ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہےکہ میاں شہباز شریف نے پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کو فون کرکے پی پی کی قیادت سے ہونے والے ملاقات کی تفصیلات سے آگاہ کردیا ہے ، جس پر نواز شریف نے سی ای سی کی میٹنگ کال کرنے کی تجویز دیتےہوئے کہا ہے کہ میٹنگ میں تمام امور کا جائزہ لیا جائے اور حتمی فیصلہ کیا جائے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اس ملاقات اور اس ملاقات میں ہونے والی  گفتگو پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی قیادت پیپلز پارٹی کی قیادت سے ملاقات کے بعد مزید مشکلات کا شکار ہو گئی ہے، ایک جانب شاہد خاقان عباسی نے اپنے تحفظات کا اظہار کردیا تو دوسری جانب مولانا فضل الرحمان نے بھی اس ملاقات پر مکمل خاموشی اختیار کرلی ہے۔ جس کا مطلب واضح ہے کہ انہیں بھی اس ملاقات کے حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ بہرحال اب دیکھنا یہ کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ” نون لیگ میں شریف خاندان کے یکطرفہ فیصلوں کی وجہ سےچوہدری نثار جیسا منجھا ہوا سیاستدان پارٹی سے کنارہ کشی کر گیا، شاہد خاقان عباسی کےتحفظات ابھی نقطہ آغازہے2023 سے پہلےبہت لوگ پارٹی میں بادشاہی نظام کے خلاف آواز بلند کر کے انہیں چھوڑ جائیںنگے پیپلز پارٹی بھی اسی صورتحال سےدوچارہے۔”

واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی دعوت پر گذشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو اور آصف زرداری نے ماڈل ٹاؤن میں ملاقات کی تھی۔

متعلقہ تحاریر