امریکیوں کو 20 سال تک غلط بپتسما دینے والا پادری مستعفی

امریکیوں کو 20سال تک غلط بپتسما دینے والے پادری نے اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے استعفیٰ دیدیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ڈائیسیز آف فونکس کے بشپ تھامس اولمسٹڈ کا کہنا ہے کہ  امریکی ریاست ایریزونا میں ہزاروں بپتسمہ دینے والے فادر اینڈریس آرانگو سالوں تک بپتسما کی ادائی کے دوران غلط کلمات ادا کرتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان پہلے سے محفوظ لیکن معاشی تباہی سے دوچارہے، امریکی میڈیا

کورونا کیخلاف احتجاجی مظاہرے، کینیڈین وزیراعظم کا ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان

اولمسٹڈ کے مطابق فادر اینڈریس بپتسما دیتے ہوئے کہا کرتے تھے کہ”ہم آپ کو باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام پر بپتسمہ دیتے ہیں“۔حالانکہ انہیں”ہم بپتسمہ دیتے ہیں“ کے بجائے”میں بپتسمہ دیتا ہوں“کہنا چاہیے تھا۔

اولمسٹڈ نے مزید لکھاکہ”ہم“ کے استعمال میں مسئلہ یہ ہے کہ بپتسما کسی گروہ کی طرف نہیں بلکہ مسیح کی طرف سے دیا جاتا ہے اور وہ اکیلا  ہے اور تمام مقدسات کی سربراہی کرتا ہے ، لہٰذا بپتسما مسیح عیسیٰ کی طرف سے دیا جاتا ہے۔

اولمسٹڈ کے مطابق  غلطی کا مطلب یہ بھی ہے کہ چونکہ بپتسمہ مقدسات میں سے پہلا ہے، اس لیے  کچھ لوگوں کو دیگر مقدسات کو دہرانے کی ضرورت ہوگی۔

فادر اینڈریس آرنگو نے یکم  فروری کو فینکس میں سینٹ گریگوری پیرش کے پادری کےعہدے سے  استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے کہا کہ مجھے یہ جان کر دکھ ہوا ہے کہ میں نے اپنی پوری مدت کے دوران ایک پادری کے طور پر غلط طریقے کا استعمال کرتے ہوئے غلط بپتسمہ دیا ہے۔ مجھے اپنی غلطی پربہت  افسوس ہے ۔

ڈائیسیز آف فونکس نے ہر اس شخص کے لیے ایک ویب سائٹ قائم کی ہے جو یہ مانتا ہے کہ ان کا بپتسمہ غلط ہے۔ ڈائیسیز نے کہا کہ 17 جون 2021 کے بعد آرنگو کی جانب سے دیا گیابپتسما درست تصور ہوگا۔

آرنگو نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1995 میں برازیل میں کیا تھا۔ وہ ایک پادری بنے رہیں گے، اور اپنی توانائی اور وقت ان لوگوں کی مدد کے لیے وقف کریں گے جنہوں نے غلط بپتسمہ لیا تھا۔

متعلقہ تحاریر