پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کا سندھ میں مارچ سے قبل ہی مارچ

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کسی بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے دھرنا  بنیادی کردار ادا کرتا ہے اگر مارچ کے اختتام پر دھرنا نہیں دینا تو صاف مطلب ہے "کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنا۔"

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے سندھ حکومت کے خلاف اپنے اپنے لانگ مارچ کو حتمی شکل دے دی ہے ، جس کےبعد سندھ میں سیاسی درجہ حرات بڑھ گیا ہے۔ دونوں جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کی جانب  سے ایک  دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری جاری ہے۔

پاکستان تحریک انصاف آج ہفتے کے روز سے گھوٹکی سے کراچی تک لانگ مارچ کا آغاز کرے گی۔

دوسری جانب  پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کل (27 فروری) سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا آغاز کرے گی۔

یہ بھی پڑھیے

انصار عباسی کا  آئی ایس آئی کے سابق سربراہان پر سیاسی انجینئرنگ کا الزام

ن لیگ نے پھردیر کردی،ق لیگ تحریک عدم اعتمادکی حمایت سے پیچھے ہٹ گئی

صوبائی وزیر سعید غنی کا بیان

گذشتہ روز پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کراچی کے صدر اور سندھ کے وزیر اطلاعات سعید غنی نے کہا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم- پی) انتشار پھیلانے کے لیے پی ٹی آئی سندھ کی قیادت کو حکومت کے خلاف کھڑا کرنا چاہتی ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ کرنے والے لانگ مارچ کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔

پنجاب حکومت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ 4 سالوں میں پنجاب سے لڑکیوں کے اغوا کے 40 ہزار واقعات رپورٹ ہوئے لیکن میڈیا نے صرف کراچی میں امن و امان کی صورتحال پر توجہ دی۔

اس سے قبل پیپلز پارٹی نے اتوار کو ہونے والے لانگ مارچ کی تیاریوں کے سلسلے میں "بلاول ہاؤس سے مزار قائد” تک ریلی نکالی۔ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شرکاء کا کہنا تھا سلیکٹڈ حکومت کا الٹی گنتی شروع ہو چکی تھی۔

وفاقی وزیر علی زیدی کا بیان

پی ٹی آئی سندھ کے صدر اور وفاقی وزیر برائے بحری امور علی حیدر زیدی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے پیپلز پارٹی کی حکومت خوفزدہ اور پریشان ہے۔ انہوں نے کہا ہمارا لانگ سندھ میں کرپٹ حکومت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

علی زیدی کا کہنا تھا کہ گھوٹکی سے شروع ہونے والے مارچ کی قیادت وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وفاقی وزیر اسد عمر کریں گے۔ مارچ 27 اضلاع سے ہوتا ہوا 6 مارچ کو کراچی پہنچے گا۔

انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ 27 فروری کو مارچ کے شرکاء شکارپور، کشمور اور جیکب آباد سے گزریں گے۔ مارچ 28 کو قمبر شہدادکوٹ کی طرف بڑھے گا اور یکم مارچ کو خیرپور، نوشہرو فیروز اور نواب شاہ سے گزرے گا۔ 2 مارچ کو مارچ سانگھڑ اور میرپورخاص پہنچے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کی رائے

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سندھ کی سرزمین اس وقت دو مارچوں میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی عمران خان کی  زیرقیادت وفاقی حکومت کو چلتا کرنا چاہتی ہے جبکہ پی ٹی آئی بلاول بھٹو کی زیرقیادت سندھ حکومت کو گھر بھیجنا چاہتی ہے۔ سندھ کا سیاسی میدان اس وقت اکھاڑے کا منظر پیش کررہا ہے۔ مطلب یہ کہ دونوں جماعتوں کی قیادت ایک دوسرے کی حکومت گرانے نکل رہی ہے۔

ان کا کہنا ہے یہ دیکھنا ہے کہ پی ٹی آئی والے گھوٹکی سے کراچی پہنچتے ہیں تو پی پی پی کی حکومت فارغ ہوتی ہے یا پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ کراچی سے اسلام آباد پہنچتا ہے تو عمران خان  کی حکومت فارغ ہوتی ہے۔؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے یا گھر بھیجنے کے لیے دھرنا ایک بنیادی کردار ادا کرتا ہے جبکہ پی ٹی آئی اور پی پی پی والے لانگ مارچ تو کررہے ہیں مگر دونوں جانب کی قیادت نے دھرنا نہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ مطلب پھر یہ یہی ہو گا کہ "کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنا”۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ کیا یہ تماشا ہے کہ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ گھوٹکی سے کراچی پہنچے گا تو مراد علی شاہ اچانک سے استعفیٰ دے دیں گے اور وزیراعظم عمران خان پیپلز پارٹی کے لانگ مارچ کو دیکھ کر ریزائن کردیں  گے، ایسا لگتا ہے کہ مارچ سے قبل ہی لانگ مارچ کا تماشا لگنے والا ہے۔

متعلقہ تحاریر