ڈیجیٹل بینکاری کےنظام  پر پاکستانیوں کے اعتماد میں اضافہ جاری

ای بینک کی مجموعی مالیت 16فیصد اضافے سے 27.2ٹریلین تک جاپہنچی،ملک میں موبائل بینکاری  کا رجحان سب سے تیزی سے فروغ پارہا ہے، اسٹیٹ بینک

ڈیجیٹل بینکاری کے نظام پر پاکستانیوں کے اعتماد میں اضافہ جاری  ہے، اسٹیٹ بینک نے مالی سال  2022  کی پہلی سہ ماہی کے نظام ادائیگی  کے اعداد و شمار جاری کردیے۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ای بینکنگ  کا مجموعی ہجم12 فیصد اضافے سے 362.6ملین تک پہنچ گیا ہے جبکہ ای بینک کی مجموعی مالیت 16فیصد اضافے سے 27.2ٹریلین تک جاپہنچی ہے.

یہ بھی پڑھیے

ایک سال میں مہنگائی کی شرح میں 12.42 فیصد ریکارڈ اضافہ، ادارہ شماریات

پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں میں ریلیف کیسے فراہم کیا؟ ماہر معشیات نے بتادیا

اسٹیٹ بینک کے ٹوئٹر ہینڈل پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر پاکستانی صارفین کے اعتماد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جبکہ موبائل بینکاری  کا رجحان سب سے تیزی سے فروغ پارہا ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق موبائل بینکاری کے صارفین  کی تعداد 4 فیصد اضافے سے 11.3ملین تک جاپہنچی ہے جبکہ اس کا  حجم میں 29 فیصد اضافے سے 79اعشاریہ 1ملین تک جاپہنچا ہے اور موبائل بینکاری کی مالیت میں 36 فیصد اضافے سے 2.2ٹریلین ہوگئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد وشمار یہ بتاتے کہ انٹرنیٹ بینکاری کے صارفین کی تعداد بھی 36 فیصد اضافے سے 6.9ملین تک جاپہنچی ہے جبکہ اس کا حجم 6 فیصد اضافے سے 29.6ملین ہوگیا ہے اور اس کی مالیت بھی 10 فیصد اضافے سے 1.9ٹریلین تک پہنچ گئی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ ملک میں آٹو ٹیلر مشینز(اے ٹی ایمز)کی تعداد ایک فیصد اضافے سے 16ہزار 546 تک جاپہنچی ہے جبکہ ان کا ہجم 4 فیصد اضافےسے 163.7ملین تک جاپہنچا ہے تاہم ان کی مالیت ایک فیصد کمی سے 2.2ٹریلین  تک جاپہنچی ہے۔

اعداد وشمار کے مطابق ملک بھر میں پی او ایس مشینز کی تعداد 10فیصد اضافے سے 79ہزار134 ہوگئی جبکہ ان کا حجم 16 فیصد اضافے سے 28.1ملین تک جاپہنچا ہے جبکہ پی او ایس مشینوں کی مالیت 11فیصد اضافے سے 134.9 ارب تک جاپہنچی ہے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق  ملک ای کامر س مرچنٹس کی تعداد اعشاریہ 3 فیصد کی کمی سے 2ہزار993ہوگئی ہے  جبکہ ان کا حجم87فیصد اضافے سے 12.7ملین تک جاپہنچا ہے اور ان کی مالیت 21 فیصد اضافے سے 22.3ارب ہوگئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی  سال کے پہلے 3 ماہ کے دوران ملک میں کارڈ ہولڈرز کی تعداد اعشاریہ 6 فیصد اضافے سے 46ملین تک جاپہنچی ہے۔ ڈیبٹ کارڈز رکھنے والے صارفین کی تعداد میں 64 فیصد، اے ٹی ایم کارڈز رکھنے والے صارفین کی تعداد میں 10 فیصد،کریڈٹ کارڈز کے حامل افراد کی تعداد میں 4 فیصد جبکہ دیگر کارڈز رکھنے والے صارفین کی تعداد میں 22 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

متعلقہ تحاریر