میڈیا ہاؤسز کی بے جا تنقید کی شکار تحریک انصاف ہی نہیں پیپلز پارٹی بھی ہے

بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ پاکستان کے سرکردہ نیوز چینلز اور پرنٹ میڈیا نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف منظم مہم چلائی تھی۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی حکومت کے مقابلے میں پاکستان پیپلز پارٹی کو اپنے دور حکومت میں سخت میڈیا ٹرائل کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری نے عوامی مارچ کے دوران پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے مرکز میں اپنی حکومت کے دوران میڈیا ٹرائل کا سخت سامنا کرنے کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا سکھر میں انوکھا استقبال

مریم نواز نے زرداری کو گالیاں دے ڈالیں، ایک اور آڈیو لیک

پی پی پی چیئرمین نے بظاہر الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) قانون کے تحت وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں پی ٹی آئی حکومت کے خلاف صحافیوں، میڈیا ہاؤسز اور سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے خلاف بیک ٹو بیک کارروائیوں کی مذمت کی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے یہ بیان عمران خان کی حکومت کی جانب سے سخت قانون متعارف کروانے کے بعد سامنے آیا جو پی ای سی اے ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے نافذ کیا گیا تھا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سرکردہ نیوز چینلز اور پرنٹ میڈیا نے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف منظم مہم چلائی تھی ، لیکن جب آپ میدان میں اترے تھے تو انہیں میڈیا ہاؤسز نے آپ کے حق میں کمپین چلائی تھی۔

صدارتی آرڈیننس کے مندرجات

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے رواں سال 20 فروری کو ترمیمی آرڈیننس کے تحت پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کی منظوری دی تھی ۔

صدر عارف علوی نے اتوار کے روز دو آرڈیننس جاری کیے جس کے تحت الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے بنائے گئے پیکا ایکٹ 2016 اور الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترامیم کی گئیں تھیں۔

آرڈیننس کے سیکشن 20 کے تحت کسی بھی شخص کو کسی دوسرے فرد کے تشخص پر جعلی خبر دینے کی صورت میں 3 سے 5 سال کی سزا دی جاسکتی ہے۔

آرڈیننس کے تحت درخواست دینا والا شخص متاثرہ فریق تصور کیا جائے گا۔ جعلی خبر کو قابل دست اندازی جرم قرار دیا گیا ہے، جوکہ ناقابل ضمانت ہو گا۔

صدارتی آرڈیننس کے تحت ٹرائل کورٹ 6 ماہ کے اندر اندر کیس کا فیصلہ کرے گی اور کیس کی تفصیلات ہر ماہ کی بنیاد پر متعلقہ ہائی کورٹ میں جمع کرائے گی۔

واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پی ای سی اے ترمیمی آرڈیننس کے خلاف ہونے والے اعتراضات کو مسترد کردیا ہے ، ان کا کہنا ہے کہ پی ای سی اے ترامیم کا اظہار رائے کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا پیکا قانون 2016 میں آیا، اس میں ترمیم کا مقصد سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی بےبنیاد خبروں اور فحاشی کو روکنا ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے پاس اس وقت 96 ہزار کیسز پینڈنگ ہیں جن میں زیادہ تر کیسز کا تعلق گھریلو خواتین کی ہراسگی کی ویڈیو اور تصاویر سے ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ایک صحافی نے تین سال پہلے لکھا کہ عمران خان کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔ وہی صحافی دوبارہ لکھتا ہے کہ اب وزیراعظم کی بیوی گھر چھوڑ کر چلی گئی۔

متعلقہ تحاریر