غیر پیشہ ور بھارتی اینکرز کی لائیو شوز میں رسوائی

پرتگالی تجزیہ کار نے مہمانوں سے بدتمیزی کرنے پر ارنب گوسوامی کو کھری کھری سنادی، پروگرام کو کینگرو کورٹ قرار دیدیا۔ راہول شیو شنکر اپنے مہمانوں سے ہی لاعلم نکلے

غیر پیشہ ور بھارتی اینکرز کی لائیو شوز میں رسوائی کا سامنا کرنا پڑگیا۔ روس اور یوکرین جنگ کے موضوع پر منعقدہ ٹاک شو میں تجزیہ کاروں سے بدتمیزی کرنے پر بھارتی اینکر ارنب گوسوامی کو یورپی تجزیہ کار نے کھری کھری سنادی اور ان کے شو کو کینگرو کورٹ قرار دیدیا۔

راہول شیو شنکر اپنے مہمانوں سے ہی لاعلم نکلے اور روسی تجزیہ کار کو یوکرینی سمجھ کر کھری کھری سنادی۔حقیقت کا علم ہونے پر معافی مانگنا پڑگئی۔

یہ بھی پڑھیے

اقوام متحدہ میں روس کیخلاف قرارداد، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کی عدم شرکت

ٹیلیفون یوکرینی صدر کا سب سے موثر ہتھیار بن گیا

بھارتی وزیراعظم مودی کے چہیتے اینکر ارنب گوسوامی کے ٹاک  شو کا ایک وڈیو کلپ ٹوئٹر پر وائرل  ہورہا ہے جس میں   پرتگالی تجزیہ کار کو انہیں کھری کھری سناتے دیکھا جاسکتا ہے۔


پرتگالی تجزیہ کارنے پروگرام میں بولنے کا موقع نہ ملنے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے بولنے کی اجازت دیں گے یا  میں صرف دیکھنے کیلیے بلایا گیا ہوں ۔آپ نے کینگرو کورٹ سجا رکھی ہے، آپ نے مہمانوں کو روند کررکھ دیا ہے۔ آپ  کہتے ہیں کہ  کشیدگی  کاخاتمہ کیا جائے لیکن  میں آپ سے  کہتا ہوں کہ  بطور میزبان آپ اپنے لہجے میں نرمی لائیں ، آپ  انتہائی جذباتی انداز میں جارحانہ گفتگو کررہے ہیں، جو اس قسم کے مباحثے کیلیے صحیح نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آپ نے اپنے چینی مہمان کو انتہائی سفاکانہ انداز میں چپ کرایا ہے، یہ رویہ تبادلہ خیال کیلیے کسی طور بھی درست نہیں ہے۔ میں حیران ہوں کہ جاری بحران کے حوالے سے آپ کی ادارتی پوزیشن اس قدر متعصبانہ ہے ، انہوں نے کہا کہ  غیر ذمے دارانہ اور بے حس جنگ کا جس کا ہدف صرف اور صرف نیٹو ہے، پیوٹن  کے کھیل کا انجام یہ ہوگا کہ نیٹو  کی حقیقت سامنے آجائے گی کہ وہ کس قدر بکھرا ہوا ہے اور یورپ کی گردن امریکا کے گھٹنوں تلے دب جائے گی اور اگر پیوٹن کامیاب ہوجاتا ہے تو بھارت اور چین اصل فائدہ اٹھائیں گے ۔

دوسری جانب بھارتی اینکر راہول شیو شنکر کے پروگرام میں امریکی رون پال انسٹیٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈینیئل میک ایڈمز اور  یوکرینی اخبار کیف پوسٹ کے ایڈیٹر بوہدان ناہائیلو  نے شرکت کی تاہم تکنیکی غلطی کی وجہ سے دونوں کے نام بدل گئے۔

بھارتی اینکر شیوشنکر نے بوہدان ناہائیلو کو میک ایڈمز سمجھ کر انہیں پرسکون رہنے کی ہدایت کی اور پھر ڈیڑھ منٹ تک انہیں بے تکان سناتے رہے۔اس دوران  میک ایڈمز نے قطع کلامی کرتے ہوئے کہا کہ معزز میزبان میں نے اب تک ایک لفظ نہیں کہا مجھے نہیں معلوم کہ آپ مجھ پر کیوں چیخ رہے ہیں۔راہول شیو شنکر نے کہاکہ میں آپ پر چیخ نہیں رہا ہوں۔ میں مسٹر میک ایڈمز کی بات کر رہا ہوں۔جس پر مہمان نے چلا کر کہا کہ  میں ہی  مسٹر میک ایڈمز ہوں۔ جس پر راہول شیوشنکر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ور انہوں نے معافی مانگ لی۔

یادرہے کہ شیوشنکر نے لائیو ٹیلی وژن میں پہلی مرتبہ ایسی فاش غلطی نہیں کی ہے۔ 2 سال قبل بھارت اور چین کے درمیان سرحدی کشیدگی کے دوران انہوں نے 30چینی فوجیوں کی ہلاکت سے متعلق جعلی واٹس ایپ میسیج اپنے پروگرام میں پڑھ دیا تھا جس پر انہیں خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

متعلقہ تحاریر