مغربی قوتوں پر تنقید، ن لیگ اور ہمنوا صحافیوں نے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا

عمران خان نے گذشتہ روز میلسی جلسہ میں خطاب کرتے مقبوضہ کشمیر اور یوکرین روس تنازعہ پر مغرب کے دہرے معیار پر سخت تنقید کی تھی۔

وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جانب سے یورپی یونین اور امریکا سمیت مغربی ممالک کے دوہرے معیار پر تنقید کو مسلم لیگ (ن) اور ہمنوا صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا ہے۔

گذشتہ روز میلسی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے یوکرین روس تنازعہ کے بعد حالیہ عالمی پیش رفت کے تناظر میں مغرب کے دوہرے معیار پر تنقید کی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

حزب اختلاف کی تحریک عدم اعتماد ، تاریخ پے تاریخ کی نظر

سندھ کے حکمران عوام کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں، ڈاکٹر فہمیدہ مرزا

وزیراعظم عمران خان نے یورپی یونین کے رکن ممالک سمیت 22 سفارتی مشنز کے سربراہان کے مشترکہ خط کے بعد مغرب کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ خط میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی مذمت کرے اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کرے۔

وزیراعظم نے اپنے خطاب میں اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی پر کوئی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے مغرب کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مجرمانہ خاموشی پر سخت سرزنش کی تھی۔

وزیراعظم عمران خان کے بیان کے بعد اپوزیشن رہنماؤں اور ناقدین نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید شروع کردی ہے۔

مسلم لیگ (ن) شہباز شریف نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ایسا لگتا ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت اپنی نااہلی، بدعنوانی اور بڑی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کبھی بھی مضحکہ خیز خیالات کا اظہار شروع کردیتی ہے۔ عوام کسی سازش نہیں، آپ کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سزا بھگت رہے ہیں۔ جب آپ خود کو ہمیشہ ایک ہی محور رکھتے ہیں تو آپ ہر چیز کے لیے جواز گڑ لیتے ہیں۔”

مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما احسن اقبال نے وزیراعظم کے خطاب کو مولا جٹ کا خطاب قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "میلسی میں ایٹمی طاقت کے وزیر اعظم کا خطاب تھا یا کسی فلمی مولا جٹ کا؟ کیا پاکستان کو سفارتی سطح پہ پہلے ہی کافی تنہا نہیں کر دیا جو آج مذید تڑکا لگا دیا ہے-"

احسن اقبال نے مزید لکھا ہے کہ "ہمیں نہ ڈراؤ ہم سے اور کیا کرو گے؟ تمھاری کال کوٹھریوں کو بھگت چکے ہیں اب اپنی باری کا انتظار کرو!۔”

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے وزیراعظم پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے لکھا ہے کہ ” اقتدار ہاتھ سے جاتا دیکھ کر انسان کس طرح ذہنی توازن کھو بیٹھتا ہے۔ اسکو نہ اخلاقی اقدار نہ دشمنی کا ظرف ہوتا ہے نہ اپنی عہدے کی عزت کا کوئی پاس ہوتا ہے۔پہلے اس نے سب کو گالیاں دیں اور پھر کہا ریاست مدینہ کہ بنیاد اخلاقیات تھی۔اللّہ پاکستان کو آپ(عمران خان) کے شر سے محفوظ رکھے۔”

معروف صحافی مرتضیٰ سولنگی نے وزیراعظم کے خطاب پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "عمران خان امریکہ اور یورپی یونین پر حملہ کرکے اور روس کا ساتھ دے کر پاکستان کے معاشی مفادات کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟۔”

وزیراعظم عمران خان کے خطاب پر تنقید کے تیر چلاتے ہوئے سیرل المیڈا نے لکھا ہے کہ "وہ خیال کررہے ہیں کہ ان کا دورہ روس درست تھا۔؟”

پاکستان کے معروف اینکر پرسن اور صحافی طلعت حسین نے وزیراعظم کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” "آزاد خارجہ پالیسی” کے بارے میں سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے بیان بازی پیوٹن کی جارحیت کی پشت پناہی کےمترادف ہے۔ اس کی قیمت پاکستان کو چکانا پڑے گی۔ اور یہ بھی کہنا کہ کوئی تحریک عدم اعتماد امریکا ایجنڈے کے بغیر کامیاب نہیں ہوسکتی ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی زندگی امریکہ اور "مغرب” کے قدم بوسی میں گزری ہے۔”

اینکر پرسن عدیل شہزاد نے وزیراعظم عمران خان کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ” وزیراعظم صاحب امور خارجہ کو جلسوں سے دوررکھیں، اپوزیشن کو لتاڑتے رہیں لیکن ممالک کو پبلک جلسوں میں لتاڑنے سے پاکستان کو دلدل میں مزید نہ دھنسائیں۔بطور وزیراعظم آپکی ایسی تقاریر ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی۔اسوقت ہمیں تحمل سے خارجہ پالیسی کو آگے بڑھانا ہے نہ کہ جلسوں میں لتاڑ کر۔”

متعلقہ تحاریر