آرمی چیف کی برطرفی کی کوشش: بی بی سی کی خبر’سراسر بے بنیاد‘ اور ’جھوٹ کا پلندہ‘، آئی ایس پی آر
واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتی ہے۔ یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے

آئی ایس پی آر نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی جانب سے آرمی چیف کی برطرفی سے متعلق خبر کو ’سراسر بے بنیاد‘ اور ’جھوٹ کا پلندہ‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو پر شائع ہونے والی ایک خبر جس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی برطرفی کی منصوبہ بندی کا دعویٰ کیا گیا تھا کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بی بی سی کی ’اس عام پروپیگینڈا خبر میں کسی معتبر، مستند اور متعلقہ ذرائع کا ذکر نہیں کیا گیا ہے یہ خبر ’سراسر بے بنیاد‘ اور ’جھوٹ کا پلندہ‘ اور بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
سیالکوٹ گیریژن کے شیڈ میں لگنے والی آگ پر قابو پالیا، آئی ایس پی آر
دہشت گرد کمانڈر غفور عرف جلیل باجوڑ میں مارا گیا، آئی ایس پی آر
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) April 10, 2022
‘ آئی ایس پی آر کا مزید کہنا تھا کہ ’اس جعلی خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے اور یہ واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتی ہے۔ یہ معاملہ بی بی سی حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گذشتہ روز ‘ قومی اسمبلی میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ اور سیاسی ہلچل کے دوران اس حوالے سے رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ عمران خان نے مبینہ طور پر آرمی چیف کو برطرف کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور اس حوالے سے نوٹیفکیشن بھی تیار کرلیا گیا تھا، تاہم وزارت دفاع کی جانب سے اسے جاری کرنے کی نوبت نہیں آئی۔ اس بابت اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک پٹیشن کی رات گئے سماعت کی بھی خبریں گردش میں تھیں۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایک طرف پارلیمنٹ میں اجلاس جاری تھا اور دوسری جانب ایک ہیلی کاپٹر میں دو اعلیٰ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچے، جہاں ان کی عمران خان سے ملاقات ہوئی، جس کو خوشگوار نہیں کہاجاسکتا تھا۔
بی بی سی اردو ان چند آرگنائزیشنز میں ہے جنہوں نے پاکستان میں فیک نیوز کے سیاسی استعمال کو نیارخ دیا، پاکستان نے BBC کو اس ضمن میں ڈوزئیر بھی دیا، یہ خبر بھی اسی پروپیگنڈے کے تسلسل کا نمونہ ہے، عمران خان نے ہمیشہ فوجی قیادت کی تنظیم کا ادراک اور احترام کیا https://t.co/2OBkTvk4Ct
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 10, 2022
دوسری جانب آرمی چیف کی برطرفی سے متعلق خبروں پر سابق وزیر اطلاعات و نشریات اور قانون فواد چوہدری نے تردید کی تھی انھوں نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ان تمام خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’حکومت کو آرمی چیف اور پاکستان کی افواج کی ادارہ جاتی تنظیم کا مکمل ادراک ہے۔
حکومت کو آرمی چیف اور پاکستان کی افواج کی ادارہ جاتی تنظیم کا مکمل ادراک ہے ایسی افواہیں کہ فوج کی قیادت میں تبدیلی کا سوچا بھی جا رہا ہے انتہائ لغو اور بے بنیاد ہیں اور ایک منصوبے کے تحت پھیلائ جا رہی ہیں حکومت ان افواہوں کی مذمت کرتی ہے اور مکمل تردید کرتی ہے
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) April 9, 2022
ایسی افواہیں کہ فوج کی قیادت میں تبدیلی کا سوچا بھی جا رہا ہے انتہائی لغو اور بے بنیاد ہیں اور ایک منصوبے کے تحت پھیلائی جا رہی ہیں۔ حکومت ان افواہوں کی مذمت کرتی ہے اور مکمل تردید کرتی ہے۔‘ فواد چوہدری نے آج بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ’فیک نیوز‘ پھیلانے پر بی بی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔









