نومنتخب وزیراعظم  کا دورہ کراچی، تاجر رہنما شہبازشریف کی راہ تکتے رہ گئے

وزیر اعظم شہباز شریف نے کراچی کا دورہ کیا لیکن معاشی بحالی کے لیے اقدامات کرنے کے اعلان کے باوجود تاجر برادری سے ملاقات نہیں کی۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت کی پہلی ترجیح معیشت کی بحالی ہے ، وزیراعظم شہباز شریف نے کراچی کا ایک روزہ دورہ کیا تاہم انہوں نے ملک کی معاشی بحالی کے لیے خصوصی منصوبے لانے کے اعلان کے باوجود کراچی کی تاجر برادری سے ملاقات نہیں کی۔

کراچی کا شمار پاکستان کے معاشی حب کے طور پر کیا جاتا ہے جوکہ ایک حقیقت بھی ہے۔ پورے پاکستان کا 70 فیصد ریونیو کراچی سے جمع ہوتا ہے۔ کراچی کی ترقی ہی اصل میں پاکستانی معیشت کی ترقی ہے۔ معاشی حب ہونے کے باوجود کراچی بنیادی سہولتوں سے محروم ہے۔ دنیا میں تیزی سے ترقی کرنے والے 12 شہروں میں کراچی کا دور دور تک نام نہیں ہے بلکہ چار بدترین رہائشی شہروں شمار ہورہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ، گاڑیوں کی فروخت میں 53 فیصد اضافہ

اسٹیٹ بینک نے ہفتے میں چھ دن کام کرنے کے نظرثانی شدہ اوقات جاری کردیئے

نومنتخب وزیر اعظم شہباز شریف کا کراچی کا حالیہ دورہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو سکا کیونکہ یہ دورہ اعلانات اور سیاسی بیانات سے زیادہ کچھ نہیں دے سکا۔

اپنے ایک روزہ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے سندھ کی حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ اور ان کی کابینہ کے ارکان، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم-پی) جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) کے سرکادہ رہنماؤں سے ملاقات کیں۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ تمام صوبوں کی ترقی، غربت کے خاتمے اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے سب کو مل کر محنت کرنا ہوگی۔

انہوں نے کراچی میں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت بھی کی، جس میں انہوں نے سندھ میں پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام سے متعلق ترقیاتی منصوبوں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان حل طلب مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔

شہباز شریف نے کے فور واٹر منصوبے کی جلد تکمیل، شہر کے صنعتی علاقوں کی تمام سڑکوں کی تعمیر اور بی آر ٹی منصوبوں کے لیے بسوں کی خریداری میں صوبائی حکومت کو مالی معاونت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ کو یقین دلایا کہ وفاقی حکومت سندھ حکومت کی حمایت کرے گی۔

وزیراعظم نے فیصلہ کیا کہ وفاقی اور سندھ حکومت کے وزراء باہمی مشاورت سے وفاق زیر اہتمام اسپتالوں کا کنٹرول سندھ حکومت کے حوالے کریں گے ، اور اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ صوبائی حکومت ان اسپتالوں کو صحیح طریقے سے چلائے گی۔

وزیراعظم نے اس بات کا بھی اعلان کیا کہ موجودہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) منصوبے کو چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کے بینر نیچے مکمل کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ آرام دہ ٹرانسپورٹ سہولیات کی دستیابی ایک اور بڑا چیلنج ہے اور کراچی کے شہریوں کو ایئر کنڈیشنڈ بسیں فراہم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

تاہم، وزیراعظم شریف کا دورہ کراچی اور ملاقاتیں ان کے معیشت کی بحالی کے اعلانات سے میل نہیں کھارہے ، کیونکہ انہوں نے تاجر برادری کی کسی اعلیٰ شخصیت سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی کراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) کے کسی عہدیدار سے کوئی ملاقات کی اور نہ ہی فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کا دورہ کیا۔

متعلقہ تحاریر