لاہور جلسہ ، کیا عمران خان 2011 کی تاریخ دہرا پائیں گے

پی ٹی آئی کے آج کے جلسے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہیں ، جلسہ گاہ کے چاروں اطراف میں لائٹوں اور جھنڈوں کو لگایا گیا ہے جبکہ مرکزی اسٹیج پر امپورٹڈ حکومت نامنظور کی پینا فلیکس لگائے گئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) پشاور اور کراچی کے بعد اب لاہور بڑا جلسہ کرنے کو تیار، تیاریاں مکمل، کارکنان پرجوش ہیں ، لیکن کیا سابق وزیراعظم عمران خان اپنا 2011 میں لاہور جلسے کا ریکارڈ توڑ پائیں گے، ایک اندازے کے مطابق پی ٹی آئی کے 2011 کے جلسے میں 2 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی۔

صوبائی دارالحکومت لاہور میں عمران خان اپنا پاور شو دیکھانے کیلئے تیار ہیں ، تمام تر تیاریاں اور انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم عمران خان حکومت سے نکالے جانے اور اپنے خلاف ہونے والی مبینہ سازش کے خلاف عوام میں اپنے بیانیے کی ترویج کے لیے ملک کے مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات سے خطاب کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کیا عون چوہدری اب شہبازشریف کو نشہ سپلائی کریں گے ؟

اوورسیز پاکستانی عمران خان کی حمایت میں سڑکوں پر آگئے

پشاور اور کراچی کے بڑے جلسوں کے بعد اب شہر لاہور کے تاریخی مقام منٹو پارک کا انتخاب کیا گیا ہے۔ مینار پاکستان کے مقام پر عمران خان آج بروز جمعرات 21 اپریل کو رات 8 بجے جلسہ کر رہے۔

جلسہ گاہ میں دو اسٹیج بنائے گئے مرکزی اسٹیج پر عمران خان کے ساتھ اعلیٰ مرکزی قیادت جبکہ دوسرے اسٹیج پر دوسری اہم قیادت اور صوبائی قیادت موجود ہوگی۔

جلسہ گاہ کے چاروں اطراف میں لائٹوں اور جھنڈوں کو لگایا گیا ہے جبکہ مرکزی اسٹیج پر امپورٹڈ حکومت نامنظور کی پینا فلیکس لگائے گئے ہیں۔

نیوز 360 نے تیاریوں کے حوالے سے رپورٹ کی تو وہاں پر موجود عمران خان کے کھلاڑیوں کا کہنا تھا کہ عمران خان اس امپورٹڈ حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے ہیں، سازش کے ساتھ لائی گئی یہ حکومت کو نہیں مانتے عمران خان اپنا ہی ریکارڈ توڑنے مینار پاکستان میں جلسہ کر رہے ہیں۔

ایم پی اے ثاینہ کامران، نیلم ارشاد، ثمینہ لطیف، ملک وقار احمد اور شبیر گجر نے گفتگو میں کہا کہ عمران خان پاکستان کیلئے اس کی عزت کی طرح ہے، عمران خان پاکستان کو خود مختار ملک دیکھنا چاہتے ہیں اور غلامی سے آزاد کروانا چاہتے ہیں ان کے خلاف سازش کی گئی اور ایسی حکومت لائی گئی ہے جو ساری کی ساری ضمانتوں پر ہیں۔ ہم اس امپورٹڈ حکومت کو نہیں مانتے۔

مینار پاکستان کی سیاسی تاریخ

لاہور کے گریٹر اقبال پارک مینار پاکستان جس کو منٹو پارک بھی کہتے ہیں اس کی تاریخ بھی بہت پرانی ہے ، یہ وہی مقام ہے جہاں قرارداد پاکستان پیش کی گئی 1940 میں پاکستان بننے کیلئے تحریک کا آغاز بھی اس جگہ سے کیا گیا۔ اس تحریک اور قرارداد پاکستان کے بعد 1947 میں پاکستان الگ ملک کے طور پر مرزوجود میں آیا۔

اس مقام پر تمام ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں اور بڑے لیڈروں نے اپنے اپنے پاور شو کر رکھے ہیں۔ اس لئے بھی مینار پاکستان کو سیاسی اعتبار سے خاص اہمیت حاصل ہے۔

جیسے لاہور کا کردار ملکی سیاست میں ہمیشہ سے اہم رہا ہے۔ ماضی میں عمران کی تحریک کیلئے بھی یہی مقام سنگ میل ثابت ہوا تھا۔

2011 میں عمران خان کا جلسہ جس کو تاریخ میں ہمیشہ بتایا جاتا یے اس جلسہ میں تقریباً 2 لاکھ کے قریب لوگ شریک ہوئے اور عمران خان کی تحریک کیلئے یہ جلسہ پیش خیمہ ثابت ہوا۔

عمران خان 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی کے بعد وزارت عظمیٰ کے منصب پر پہنچے۔ اب عمران خان کو متحدہ اپوزیشن نے عدم اعتماد تحریک کے ذریعے گھر بھیج دیا ہے سابق وزیراعظم عمران خان اب سڑکوں پر ہے اور یہ کہہ رہے ان کے خلاف بیرونی سازش ہوئی۔

عمران خان پشاور اور کراچی کے جلسے کے بعد لاہور میں تاریخ جلسہ کرنے آرہے ہیں اور اپنا قائم کردہ 2011 کا ریکارڈ توڑنے کا عزم رکھتے ہیں۔

سیکورٹی تھریٹ

واضح رہے کہ گذشتہ روز ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر عطیاب سلطان کی جانب سے پی ٹی آئی کی قیادت کو خط لکھا گیا جس میں سیکورٹی خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

خط میں کہاگیا تھا کہ انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق عمران خان کی جان کو خطرہ ہے اس لیے بہتر ہے کہ وہ جلسے میں وہ عملی طور پر آنے کی بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرلیں۔

ڈپٹی کمشنر کی جانب سے خط پی ٹی آئی پنجاب کے صدر شفقت محمود، پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز محمود، پی ٹی آئی پنجاب کے جنرل سیکرٹری زبیر نیازی اور ریلی کے منتظم علی وڑائچ کو لکھا گیا ہے۔ ان سے کہا گیا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے بروقت عملی اقدام کرلیے جائیں۔

خط کا جواب دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے ایڈیشنل سیکرٹری اطلاعات حسن خاور کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اس طرح کے ہتھکنڈوں سے پارٹی کی حوصلہ شکنی نہیں کی جاسکتی۔

متعلقہ تحاریر