اسٹیٹ بینک کا ڈاکٹر رضا باقر کو خراج تحسین، خدمات کااعتراف

رضا باقر نے کرونا کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلیے 2073ارب کا مالی معاونت کا پیکیج دیا،شرح سود میں625بیسز پوائنٹس کمی کی، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام راست متعارف کرایا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی مدت مکمل کرکے گزشتہ روز سبکدوش ہونے والے اپنے سابق سربراہ ڈاکٹر رضا باقر کو خراج تحسین پیش  کرتے ہوئے ان کی گراں قدر خدمات کا اعتراف کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے ڈاکٹر رضا باقر کی بطور گورنراسٹیٹ بینک مدت کے دوران مالیاتی نظام کو مضبوط بنانے اور معیشت کو کو رونا کے اثرات سے نکالنے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات کی تفصیل جاری کر دی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

مفتاح اسماعیل کا تیل کی سبسڈی پر رونا دھونا،حماد اظہر نے حل پیش کردیا

اپریل 2022، مہنگائی دو سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

اسٹیٹ بینک کے مطابق ڈاکٹر رضا باقر کی قیادت میں مرکزی بینک نے بینکاری اور مالیاتی نظام کی ترقی ، معاشی ریکوری اور استحکام کیلئے نمایاں خدمات انجام دیں، کورونا کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے 2073 ارب روپے کا مالی معاونت کا پیکیج دیا گیا جب کہ سرمائے کی فراہمی آسان بنانے کیلئے کورونا وبا  کے دوران شرح سود 625 بیسز پوائنٹس کم کی گئی۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق رضا باقر کی سربراہی میں  سمندر پار  پاکستانیوں کی سہولت کیلئے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کرایا گیا جس میں 175 ملکوں سے3لاکھ 95ہزار 910 اکاؤنٹس کے ذریعے 4ارب ڈالر سے زائد سرمایہ موصول ہوا ، ڈاکٹر رضا باقر کی قیادت میں ہاؤسنگ اور تعمیرات کیلئے بینکوں کے قرضوں کا حجم د گنا ہو کر 404 ارب روپے تک پہنچ گیا جب کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے حجم میں 40فیصد اضافہ ہوا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق رضا باقر کے دور میں ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت راست متعارف کرائی گئی جس میں مختصر  عرصے کے دوران 20لاکھ ٹرانزیکشنز کے ذریعے 21 ارب روپے کی ادائیگیاں کی گئیں۔

رضا باقر کی سربراہی میں بینک دولت پاکستان نے زرعی قرضوں کو آسان اور بینکوں کے ہدف کو حاصل کرنے کیلئے اقدامات کیے جس سے زرعی قرضوں کا ہدف 1700 ارب روپے تک بڑھایا گیا۔ اسلامی بینکاری نے ریکارڈ ترقی کی اور اس کے اثاثوں کی مالیت میں 30 فیصد جب کہ جمع شد ور قوم میں 24 فیصد اضافہ ہوا۔

متعلقہ تحاریر