گورنر سندھ کی تعیناتی میں تاخیر،ایم کیوایم پر اندرونی دباؤ بڑھنے لگا
پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن نے ایم کیوایم کو شٹل کاک بنادیا، دونوں حکمران جماعتیں معاہدے پر عملدرآمد میں پس و پیش سے کام لینے لگیں

گورنر سندھ کی تعیناتی میں تاخیر اور پیپلزپارٹی و مسلم لیگ ن کے ساتھ طے پانے والے معاہدو ں پر پیش رفت نہ ہونے کے باعث ایم کیوایم پاکستان پراندرونی دباؤ بڑھنے لگا۔
ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا کہ ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کو سندھ اور مرکز میں حکمران جماعتوں کے ساتھ معاہدوں میں کوئی پیش رفت نہ ہونے پر شدید تنقید کاسامنا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ایم کیو ایم نے گورنر سندھ کے لیے پانچ نام وزیراعظم کو بھیج دیے
کیا ادارے اب بھی نیوٹرل نہیں؟ گورنر سندھ اور انصار عباسی نےنئی بحث چھیڑ دی
گورنر سندھ کی تعیناتی سمیت پیپلز پارٹی کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں تاخیر پر ایم کیوایم پاکستان نے شدیدتحفظات کا اظہار کیا ہے تاہم پیپلزپارٹی نے ایم کیوایم کی جانب سے 5 نام ارسال کیے جانے کے باوجود تاحال گورنر سندھ کی تقرری کیلیے کوئی پیش رفت نہیں کی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کی قیادت نے معاہدے کی ضامن مسلم لیگ (ن) سے بھی رابطہ کیا ہے تاہم لیگی قیادت نے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے انہیں پیپلز پارٹی سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
دوسری جانب پی پی قیادت نے ایم کیو ایم کو آگاہ کیا ہے کہ گورنر کی تعیناتی کا فیصلہ آصف علی زرداری کی منظوری کے بعد ہوگا جو فیصلے سے پہلے مرکز میں مسلم لیگ ن سے مشاورت کریں گے۔
یاد رہے کہ مارچ کے آخری ہفتے میں ایم کیو ایم پاکستان نے سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت سے علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان کیا تھا اور پیپلزپارٹی کے ساتھ سیاسی معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد عمران خان کی برطرفی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان پہلے ہی وفاقی کابینہ میں شامل نہ ہونے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ ایم کیوایم کی قیادت نے کابینہ میں شمولیت کے بغیر ہی حکومت کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا تھا کہ ایم کیو ایم کابینہ کا حصہ بننے کے بجائے کراچی اور صوبے کے دیگر شہری علاقوں کی فلاح و بہبود کے حوالے سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہے۔









