مارگلہ ہلز پر آگ لگانے والی ٹک ٹاکر ڈولی کی گرفتاری کیلیے پولیس لاہور روانہ
ٹک ٹاکر ڈولی کیخلاف سی ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات کی مدعیت میں مقدمہ درج کیا گیا، سنسنی خیز ٹک ٹاک وڈیوز بنانے کا جنون کئی قیمتی جانیں لے چکا

اسلام آباد پولیس نے مارگلہ ہلز پر آگ لگا کر وڈیو بنانے والی خاتون ٹک ٹاکر ڈولی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ اسلام آباد پولیس خاتون ٹک ٹاکر کی گرفتاری کیلیے لاہور روانہ ہوگئی۔
سی ڈی اے کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ماحولیات نے خاتون ٹک ٹاکر ڈولی کی وڈیو وائرل ہونے کے بعد تھانہ کوہسار میں مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
سیالکوٹ میں بھینس کو گولی مارنے والا جنونی ٹک ٹاکر گرفتار
ٹک ٹاکر بھولا ریکارڈ ریپ کےالزام میں پھر گرفتار،حریم شاہ کاشدیدردعمل
ایف آئی آر میں لینڈاسکیپ ایکٹ، فارسٹ ایکٹ، وائلڈ لائف ایکٹ اور انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔
ایف آئی آر لینڈ اسکیپ ایکٹ 1966، فارسٹ ایکٹ 1927 کے تحت درج کی گئی جبکہ انوائرنمنٹ پروٹیکشن ایکٹ 1997 کی دفعہ بھی شامل ہے اور ایف آئی آر میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 425، 188 بھی شامل ہیں۔

ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پرٹک ٹاکر ڈولی کی وڈیو گردش کررہی ہے،جس میں خاتون جنگل میں آگ لگا کر وڈیو شوٹ کروارہی ہے، مبینہ طور پر مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا علاقہ ہے جہاں آتشزدگی کے متعدد واقعات ہوئے ہیں۔ آگ سے چرند ،پرند، پودوں اور درختوں کو وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب مارگہ ہلز پر آگ لگانے والی خاتون ٹک ٹاکر ڈولی کی لاہور میں موجودگی کاانکشاف ہوا ہے جس کے بعد تھانہ کوہسار کی پولیس خاتون کی گرفتاری کیلیے لاہور روانہ ہوگئی ہے۔
This is a disturbing & disastrous trend on Tik Tok! Young people desperate 4 followers are setting fire to our forests during this hot & dry season! In Australia it is lifetime imprisonment for those who start wildfires. We need to introduce similar legislation @WildlifeBoard pic.twitter.com/RGMXnbG9f1
— Rina S Khan Satti (@rinasaeed) May 17, 2022
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں مبینہ طور پر ایبٹ آباد کے جنگلات میں آگ لگانے والے دو نوجوانوں کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی، ویڈیو میں ٹک ٹاکر کو لائیٹر کی مدد سے آگ لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔تاہم سوشل میڈیا پر اس وڈیو کو مارگلہ ہلز ظاہر کرکے شیئر کیا جارہا ہے۔
مارگلہ کے جنگلات میں آگ لگانے والے جوانوں کی ویڈیو سامنے آگئی@ahsanpsp @dcislamabad pic.twitter.com/7Ke0znzms8
— sajid sheikh (@sajidsheikh321) May 16, 2022
اسلام آباد وائلڈ لائف کا کہنا ہے ٹک ٹاکرز ویڈیو بنانے اور فالورز بڑھانے کے لیے جنگل کو آگ لگا دیتے ہیں۔انتظامیہ کا کہنا تھا کہ آسٹریلیا میں جنگلات کو آگ لگانے کی سزا عمر قید ہے، پاکستان میں بھی سخت قانون لانے کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا ٹک ٹاک پر مداحوں کی تعداد میں اضافے کیلیے سنسنی خیز وڈیوز بنانے کے چکر میں متعدد افسوسناک واقعات پیش آچکے ہیں۔کئی نوجوان ایکشن وڈیوز بنانے کے چکر میں ٹرینوں کے نیچے آکر موت کے گھاٹ اتر چکے ہیں۔
گزشتہ برس جنوری 2021میں راولپنڈی کی شاہ خالد کالونی میں اسکیم تھری پھاٹک کے قریب ٹک ٹاک وڈیو بناتے ہوئےنوجوان حمزہ نوید ٹرین کی ٹکر سے جاں بحق ہوگیا تھا۔

مارچ 2021میں شاہدرہ لاہور کا رہائشی نوجوان آصف ٹک ٹاک وڈیو بناتے ہوئے ٹرین کی زد میں آکر اپنی جان گنوا بیٹھا تھا۔رواں برس فروری میں نوابشاہ میں ریلوے لائن کے ساتھ ٹک ٹاک وڈیو بناتے ہوئے 28سالہ شہزاد بھٹی ٹرین کی زد میں آکر جاں بحق ہوگیا تھا۔
گزشہ برس مئی میں سوات میں ٹک ٹاک پر خودکشی کا جعلی اسٹنٹ کرنے والا 19 سالہ ٹک ٹاکر حمید اللہ لوڈڈ پستول سے گولی چلنے کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا،حمیداللہ اپنے دوست کی پستول کے ساتھ ویڈیو بنا رہا تھا لیکن اسے یہ نہیں پتا تھا کہ وہ پستول لوڈ ہے۔

گزشتہ برس 23دسمبر کو ملیر جعفر طیار سوسائٹی کے علاقے غازی چوک میں موٹرسائیکل سوار 14،15سالہ ٹک ٹاکرزسعید احمد اور فاضل علی نے سنسنی خیز وڈیو بنانے کیلیے 50سالہ راہ گیر قمرزمان کو گولی مارکر قتل کردیا تھا۔

دو روز قبل 16مئی کو مظفرگڑھ کے علاقے بیٹ میر ہزار میں شادی کی تقریب کے دوران اسلحے کے ساتھ ٹک ٹاک وڈیو بناتے ہوئے دوستوں سے گولی چلنے کے نتیجے میں دولہا زخمی ہوگیا تھا۔
سیالکوٹ پولیس نے مقدمہ درج کرکے ٹک ٹاک کے جنون میں پالتو بھینس کو گولی مار کر ہلاک کرنے والے ظالم شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزم نے ٹک ٹاک پر شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنی پالتو بھینس کو گولی مار کر ہلاک کیا اور ویڈیو ٹک ٹاک پر اپلوڈ کر دی تھی۔@DpoSialkot https://t.co/8lZWoQBFHE pic.twitter.com/NCtMq7R29P
— Punjab Police Official (@OfficialDPRPP) May 12, 2022
گزشتہ ہفتے سیالکوٹ میں جنونی ٹک ٹاکر نے سنسنی خیز وڈیو بنانے کیلیے اپنی بھینس کو گولی مار کر ہلاک کردیا تھا، پولیس نے ملزم کو گرفتارکرلیا تھا۔









