طالبان نے انسانی حقوق کمیشن سمیت 5 ”غیرضروری“ محکمے تحلیل کردیے

قومی بجٹ صرف فعال اور نتیجہ خیز محکموں کیلیے ہے البتہ تحلیل شدہ محکموں کو ضرورت پڑنے  پر مستقبل میں دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے، انعام اللہ سمنگانی

افغانستان میں طالبان حکومت نے مالی بحران کے پیش نظر انسانی حقوق کمیشن  سمیت 5 محکمے غیر ضروری قرار دے کر تحلیل کردیے  ۔

برطانوی خبررساں ایجنسی کے مطابق افغان حکام نے انسانی حقوق کمیشن سمیت 5 محکمے تحلیل کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

امریکا سمیت تمام ممالک کیساتھ خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں، سراج الدین حقانی

نیویارک میں سفید فام دہشتگرد کی فائرنگ سے 10 سیاہ فام افراد ہلاک ہو گئے

افغان حکومت کے نائب ترجمان انعام اللہ سمنگانی نے خبرایجنسی سے گفتگو میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کونسل سمیت 5 محکمے غیر ضروری تھے لہٰذا تحلیل کردیے ہیں ۔قومی بجٹ صرف فعال اور نتیجہ خیز محکموں کے لیے ہے البتہ تحلیل شدہ محکموں کو ضرورت پڑنے  پر مستقبل میں دوبارہ فعال کیا جاسکتا ہے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق تحلیل شدہ افغان محکموں میں انسانی حقوق کمیشن،قومی مفاہمتی کونسل،قومی سلامتی کونسل ، آئین کے نفاذ کی نگرانی کے لیے آزاد کمیشن ولسی اور مشرانو جرگہ شامل ہیں۔

یاد رہے کہ افغانستان کو رواں مالی سال 50کروڑ 10 لاکھ کے بجٹ خسارے کا سامنا ہے۔ہفتے کو پہلے سالانہ قومی بجٹ کا اعلان کرتے ہوئے افغانستان کے نائب وزیر اعظم عبدالسلام حنفی نے کہا کہ حکومت نے 231.4 ارب افغانی اخراجات اور 186.7 ارب افغانی کی ملکی آمدنی کی پیش گوئی کی ہے۔

متعلقہ تحاریر