ایف آئی اے نے اسرائیل میں رہنے اور کام کرنے پر 5 پاکستانیوں کو گرفتار کر لیا

حکام کے مطابق تین دیگر مفرور ہیں جبکہ چار پاکستانیوں نے خاندان سمیت 7 سال تک تل ابیب میں گزارے۔

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا ہے جن پر کئی سالوں سے اسرائیل میں رہنے اور کام کرنے کا الزام ہے۔ ایک خاتون سمیت تین دیگر افراد تاحال فرار ہیں۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار اور مفرور تمام آٹھ ملزمان کا تعلق سندھ کے علاقے میرپورخاص سے ہے۔

پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور نہ ہی اس کے ساتھ سفارتی تعلقات ہیں۔ اس کے پاسپورٹ پر ایک سطر ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ دستاویز اسرائیل کے سفر کے لیے درست نہیں ہے۔ ماضی میں اسرائیل کا دورہ کرنے والے کچھ پاکستانیوں نے دوسرے ممالک کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے 

اسلام آباد میں پولیس کانسٹیبل کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا گیا

بٹخیلہ میں نامعلوم ملزمان کی گھر پر فائرنگ، بچوں سمیت 9 افراد قتل

ایف آئی اے نے یہ گرفتاریاں میرپورخاص میں کیں اور اسی طرح کے الزامات کے تحت آٹھ افراد کے خلاف پانچ مقدمات بھی درج کیے ہیں۔

ایف آئی اے کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار افراد پر اسرائیلی شہر تل ابیب میں قیام کرنے کا الزام ہے جہاں وہ مددگار اور کار واشر کے طور پر کام کرتے تھے۔

حکام نے بتایا کہ ملزمان چار سے سات سال تک اسرائیلی دارالحکومت میں رہے۔ انہوں نے "اسک متات نامی” انسانی اسمگلر کو 3 سے 4 لاکھ فی کس ادا کیے تھے ، جس نے انہیں اردن کے راستے اسرائیل میں داخل کرایا تھا۔ "اسک متات نامی” اسرائیلی شہری بتایا جاتا ہے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کی شناخت نعمان صدیقی، کامران صدیقی، کامل انور، محمد انور اور محمد ذیشان کے نام سے ہوئی ہے۔ جبکہ تین دیگر مفرور ملزمان میں محمد اسلم، عبدالمجید صدیقی، اور ایک خاتون ستارہ پروین شامل ہیں۔

ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ آٹھ ملزمان میں ایک مرد ، اس کی بیوی اور ان کے دو بیٹے شامل ہیں۔ تاہم ایف نے ان سے متعلق مزید تفصیلات نہیں بتائی ہیں۔

ایف آئی اے کی تحقیقات کے مطابق گرفتار پاکستانیوں نے نہ صرف اسرائیل میں کام کیا بلکہ ویسٹرن یونین کے ذریعے ترسیلات وطن بھی بھیجیں۔

گرفتار ملزمان پہلے ترکی، سری لنکا اور کینیا کا سفر کرنے کے بعد اردن کے راستے اسرائیل میں داخل ہوئے۔ واپسی کے سفر پر انہوں نے کراچی کی فلائٹ لینے سے پہلے وہ اردن سے دبئی پہنچے تھے۔

ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزمان کو پاسپورٹ ایکٹ اور امیگریشن آرڈیننس کے تحت مقدمات میں نامزد کیا گیا ہے۔ ایف آئی اے دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے مار رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر