فیصل آباد کے تاجر شیخ دانش کے ظلم کا شکار خدیجہ نے خدیجہ کو وکیل کرلیا

رواں سال اگست میں تاجر نے رشتے سے انکار پر بیٹی کی کلاس فیلو کو گھر سے اغوا کرکے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا تھا اور وڈیو سوشل میڈیا پر وائرل رکدی تھی۔

فیصل آباد  کے معروف تاجر شیخ دانش کی درندگی کا نشانہ بننے والی بی ڈی ایس فائنل ایئر کی طالبہ خدیجہ نے اپنے مقدمے کی پیروی کیلیے خدیجہ صدیقی ایڈووکیٹ کی خدمات حاصل کرلیں۔

خدیجہ صدیقی ایڈووکیٹ نے فیصل آباد تشدد کیس کی متاثرہ طالبہ کا کیس لینے کی تصدیق کردی۔

یہ بھی پڑھیے

فیصل آباد: تاجر کا شادی سے انکار پر بیٹی کی دوست کو اغوا کرکے بہیمانہ تشدد

خدیجہ تشدد کیس: فیصل آباد پولیس پر شیخ دانش کی رہائی کیلئے شدید سیاسی دباؤ

ایڈووکیٹ خدیجہ صدیقی نے متاثرہ طالبہ کے ساتھ اپنی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ فیصل آباد میں صنعت کار شیخ دانش کے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بننے والی لڑکی خدیجہ نے مجھے اپنا وکیل کرلیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ خدیجہ انصاف کی طلب گار اور اپنے موقف پر ڈٹی ہوئی ہے۔واضح رہے کہ  رواں سال اگست میں سوشل میڈیا پرفیصل آباد  کی رہائشی  بی ڈی ایس فائنل ایئر کی طالبہ کی ایک وڈیو وائرل ہوئی تھی جس میں معروف صنعت کار شیخ دانش کو اپنی بیٹی کے ساتھ اس پر تشدد کرتے ہوئے دکھایا گیاتھا۔

یونیورسٹی ٹاؤن فیصل آباد  کی رہائشی بی ڈی ایس  فائنل ایئر کی طالبہ خدیجہ دختر غفور نے ویمن پولیس اسٹیشن فیصل آبادمیں درج کرائی گئی ایف آئی آر میں موقف اختیار کیا تھا کہ  شیخ دانش کی بیٹی شیخ انا علی کے ساتھ اسکول سے اسکی دوستی تھی جس کی وجہ سے اس کا شیخ دانش کے گھر آنا جانا تھا اور آپس میں گھریلو تعلق داری اور اعتماد کا تعلق تھا۔

طالبہ خدیجہ نے الزام عائد کیا  تھاکہ  اس تعلق کی وجہ سے شیخ دانش نے اس  میں دلچسپی لیتے ہوئے قربتیں بڑھانے کی کوشش کی اور اسکے گھر شادی کا پیغام بھجوادیاجس پر اس نے انکار کیا تو شیخ دانش نے اپنی بیٹی کے ذریعے اسے فون پر شادی کیلیے مجبور کرنا شروع کردیا اور انکار کی صورت میں جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیں  جس کے باعث وہ خوفزدہ ہوگئی اور باپ بیٹی کے ساتھ تعلقات منقطع کردیے۔

متاثرہ طالبہ نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ 8اگست کی دوپہر ساڑھے 12 بجے شیخ دانش اور اسکی بیٹی انا علی مسلح افراد کے ہمراہ  زبردستی  اس کے گھر میں داخل ہوئے اور اسکی والدہ، بھائی اور اسکے دوستوں کی موجودگی میں اسے لاتوں گھونسوں سے تشدد کا نشانہ بنانا شروع کردیا اور زبردستی اس کے کمرے میں داخل ہوکر اس کے 2موبائل فون،5لاکھ روپے نقدی اور 2طلائی کڑے  ہتھیالیے۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزمان طالبہ اور اس کے بھائی کو زبردستی سیاہ ویگو میں اغوا کرکے اپنے گھر لے گئے اور بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔شیخ دانش ،اسکی بیٹی اور ملازمہ نے خدیجہ کے سر کے بال کاٹے اور بھنویں موڈ دیں اور  اسے چپلیں اور جوتے چاٹنے پر مجبور کیا اور اس تمام مکروہ فعل کی وڈیو بھی بنائی اور سوشل میڈیا پر وائرل کردی۔

طالبہ نے الزام عائد کیا تھا کہ اس دوران شیخ دانش اسے کمرے میں لے گیا اور نیم برہنہ کرکے اس کے ساتھ اوورل سیکس کرتارہا  اور وڈیو بناتا رہا۔ طالبہ کے مطابق  بعدازاں شیخ دانش  نے اپنی   بیٹی کے کہنے پر  اسے اور اس کے بھائی کو چھوڑتے ہوئے دھمکی دی کہ وہ گھر جاکر بتائے کہ اسکی وڈیو ملزمان کے پاس ہے اگرانہیں 10 لاکھ روپے نہ دیے گئے تو وہ وڈیو وائرل کردیں گے۔طالبہ کے مطابق اس کے موبائل فونز،نقدی زیورات اب بھی ملزمان کے قبضے میں ہیں۔

بعدازاں پولیس نے شیخ دانش اور اسکی ملازمہ  ماہم سمیت 6 ملزموں کو گرفتار کرلیا تھا تاہم شیخ دانش کی بیٹی انا شیخ کی گرفتاری عمل میں نہیں آسکی تھی۔

متعلقہ تحاریر