آن لائن بینکنگ پر ٹیکس لگانے پر سلیم مانڈوی والا برہم
مرکزی بینک نے ماہانہ 25 ہزار روپے سے زیادہ آن لائن ٹرانزیکشن پر 200 روپے ٹیکس لاگو کیا ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے سینیٹر اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا آن لائن بینکنگ پر ٹیکس لگانے کے معاملے پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان پر برہم ہوگئے اور نئے ٹیکس کو غنڈہ ٹیکس قرار دے دیا۔
نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اور سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی نے کہا ہے کہ ’آن لائن بینکنگ پر ٹیکس معیشت کو دستاویزی بنانے کے بالکل برعکس ہے۔‘
یہ بھی پڑھیے
چین دنیا کی سب سے بڑی آئس کریم مارکیٹ
انہوں نے کہا کہ ’اسٹیٹ بینک کی جانب سے عائد کردہ ٹیکس سیدھا سیدھا غنڈہ ٹیکس ہے۔ مرکزی بینک کے اس اقدام سے آن لائن بینکنگ کے نظام کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ آن لائن رقوم کی منتقلی پر اسٹیٹ بینک کے عائد ٹیکس کو سینیٹ سے مسترد کرانے کی کوشش کریں گے۔ دنیا بھر میں آن لائن بینکنگ پر سہولیات دی جاتی ہیں مگر ہمارے ملک میں الٹی دھارا بہتی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے ٹیکس سے کمرشل بینکوں کو فائدہ ہوگا۔‘
ایک سوال کے جواب میں سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ’سیاسی جماعتوں کو ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی تجویز مسترد کردی گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ٹیکس گوشوارے کی چھوٹ دینا درست نہیں۔ سیاسی جماعتوں نے ٹیکس گوشوارے کی چھوٹ نہیں مانگی تھی۔ یہ تحریک انصاف کو الیکشن کمیشن میں فارن فنڈنگ کیس میں شکست ہے اسی لیے اس طرح کے حیلے بہانے تلاش کیے جارہے ہیں۔‘
واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے ماہانہ 25 ہزار روپے تک آن لائن ٹرانزیکشن پر مفت آئی بی ایف ٹی پرائسنگ برقرار رکھی گئی ہے تاہم جاری نئی ہدایات میں کمرشل بینکوں کو زیادہ رقوم پر محدود چارجز کی اجازت دی گئی ہے۔ مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو رقم کی مجموعی حد بڑھانے کی بھی اجازت دی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق 25 ہزار روپے فی اکاؤنٹ کی ماہانہ حد عبور ہونے کے بعد بینک اپنے صارفین سے ہر ٹرانزیکشن پر اس کی 0.1 فیصد رقم یا 200 روپے چارج کرسکتے ہیں۔
مرکزی بینک نے کمرشل بینکوں کو اس بات کا بھی پابند کیا ہے کہ تمام بینک اپنے صارفین کے رجسٹرڈ موبائل نمبرز پر انہیں مفت ایس ایم ایس بھیجنے کے پابند ہوں گے، جس میں انہیں ٹرانزیکشن کی رقم اور وصول شدہ چارجز درج کرنے کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔









