غیرملکی سرمایہ کاری کے اخراج سے پی ایس ایکس بری طرح متاثر ہوئی، رپورٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو سہارا دینے کے لیے ایم ایس سی آئی نے حال ہی میں پاکستان کو ایمرجنگ سے فرنٹر مارکیٹ میں دوبارہ درجہ بندی دی ہے۔

ٹاپ لائن ریسرچ کے حکام کا کہنا ہے کہ بھاری غیرملکی سرمایہ کاری رکنے سے 2021 میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج بری طرح متاثر ہوئی۔

 رپورٹ کے مطابق 27 دسمبر 2021 تک خالص غیر ملکی سرمایہ کاری 365 ملین ڈالر تک رہی جبکہ 2020 میں یہی سرمایہ 572 ملین ڈالرز تھے۔

ٹاپ لائن ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق بینکنگ، تیل ، گیس کی تلاش اور کھاد کے شعبوں میں 2021 میں حصص کی فروخت کا غلبہ رہا۔ فروخت کیے گئے شیئرز کی مالیت بالترتیب 167 ملین ڈالرز ، 60 ملین ڈالرز اور 55 ملین ڈالرز رہی۔

یہ بھی پڑھیے

نیپرا نے ایک مرتبہ پھر صارفین پر بجلی گرانے کا پروگرام بنا لیا

پاکستان میں کرپٹو کرنسی کی مالیت20ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو سہارا دینے کے لیے ایم ایس سی آئی نے حال ہی میں پاکستان کو ایمرجنگ سے فرنٹر مارکیٹ میں دوبارہ درجہ بندی دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 30 نومبر 2021 کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے غیرملکی سرمایہ کاروں نے بالترتیب 107 ملین ڈالرز اور 58 ملین ڈالرز کا سرمایہ نکال لیا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سات سالوں کے دوران، خالص غیر ملکی حصص کی فروخت 2.6 بلین امریکی ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے۔ آؤٹ فلو اوسط فری فلوٹ مارکیٹ کے مالیتی حجم کا تقریباً 15% ہے۔

آخری بار پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 2017 میں سب سے بڑی غیرملکی سرمایہ کاری دیکھنے میں آئی تھی جب پاکستان کو MSCI سے ایمرجنگ مارکیٹ (EM انڈیکس) میں اپ گریڈ کیا گیا تھا۔

31 مئی 2017 کو 452 ملین ڈالر کی سرمایہ دیکھنے میں آئی تھی جوکہ تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری تھی۔

رپورٹ کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں کے نکل جانے سے پاکستانی کرنسی کی قدر میں تیزی سے کمی آئی ، چھوٹے تاجروں کو غیرمستحکم ماحول ملا، اسٹاک ایکسچینج کو جدید آئی ٹی کے اصولوں پر منتقل نہیں کیا گیا ، اس طرح پی ایس ایکس دنیا کی ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی ریٹنگ سے نکلتا ہوا فرنٹیئر مارکیٹ میں چلے گئی۔

Facebook Comments Box