ہر دور کا ایک بحران ہوتا ہے ہمارا بحران عمران خان ہے، بلاول بھٹو زرداری

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ حکومت منی بجٹ کے ذریعے ٹیکسوں کا سونامی لا رہی ہے، تاریخ میں پہلی مرتبہ معاشی شرح نمو منفی 0.4 ہوئی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے حکومت منی بجٹ کے ذریعے 350 ارب روپے کے ٹیکسز کا سونامی لارہی ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ پی ٹی آئی حکومت کے معاہدے کا بوجھ عام آدمی پر پڑے گا۔

قومی اسمبلی گرج دار تقریر کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے حکومت کی معاشی پالیسیز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔ بدھ کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اس وقت معاشی تباہی کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے ملکی معیشت پر قومی ڈائیلاگ کی بات کی تھی لیکن حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

گھر کے ایک اور بھیدی نے پی ٹی آئی کی لنکا ڈھانے کیلیے کمر کس لی

پاکستان میں سیاسی ہلچل ، حکومت اور اپوزیشن نے صف بندی کرلی

انہوں نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ترمیمی بل 2021 پر بھی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے دور میں بھی مرکزی بینک کی خود مختاری کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن کسی بھی فریق نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ پاکستان کے عوام دیکھ سکتے ہیں کہ آپ کے فیصلوں کے نتیجے میں کیا ہوتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ حکومت اپوزیشن کے مطالبے کو آئی ایم ایف کے سامنے رکھ سکتی ہے "لیکن آپ کی ضد اور انا کی وجہ سے، آپ نے ایسے فیصلے کیے جو عام آدمی کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہیں۔”

شوکت ترین کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت ایک نئے وزیر خزانہ کے ساتھ نیا بجٹ پیش کر رہی ہے- ان کی وزارت کے دور میں پاکستان کی معیشت کا بیڑا غرق ہو گیا ہے۔

انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی وزراء معیشت میں بہترین کے جھوٹے دعوے کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے منفی ترقی، مہنگائی، غربت اور بے روزگاری کی شرح میں اضافے کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ یہ تبدیلی (تبدیلی) نہیں بلکہ تباہی ہے، تو ہم سچ کہہ رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ حقائق کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ آپ کی مرضی ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے حکومتی وزراء کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ "جولائی میں مالی سال 22 کا بجٹ پیش کرتے وقت حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ اب ملک میں معاشی ترقی شروع ہو جائے گی، مالیاتی خوشحالی آئے گی اور کوئی نیا ٹیکس یا منی بجٹ نہیں لایا جائے گا۔

ابھی ہم نئے سال کے جنوری کے مہینے میں ہیں اور حکومت منی بجٹ کا سونامی لارہی ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ کو معاشی ماہر بننے کی ضرورت نہیں ہے اگر 350 ارب روپے کے ٹیکسز لگائے جائیں تو لازمی بات ہے کہ مہنگائی بڑھ جائے گی۔

انہوں نے حال ہی میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں حکمران جماعت کی شکست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے لوگوں نے پی ٹی آئی کو ایک "چھوٹا سا ٹریلر” دکھایا ہے۔

مجوزہ ٹیکسوں پر تنقید

چیئرمین پیپلز پارٹی نے منی بجٹ میں مجوزہ ٹیکسوں کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ  "جو لوگ نوجوانوں کے رہنما ہونے اور پاکستان کو ایک جدید ریاست بنانے اور ہمیں ای گورننس کی طرف لے جانے کی بات کرتے تھے۔ کمپیوٹر ، انٹرنیٹ ، موبائل فونز اور فونز کالز پر ٹیکسز لگا رہی ، اب اب نوجوانوں کو عمران خان کی طرف سے لگائے جانے والے ٹیکس کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔

سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا حوالہ دیتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں لیپ ٹاپ مفت تقسیم کیے تھے، اب آپ نے ان پر ٹیکس لگا دیا اب نوجوان کہاں جائیں گے۔ آپ نے نہ صرف درآمدی ڈیوائسز پر ٹیکس لگایا  ہے بلکہ مقامی طور پر بنی اشیاء پر بھی ٹیکس لگایا جا رہا ہے۔

بلاول نے مزید کہا کہ حکومت نے منی بجٹ کے ذریعے پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی یعنی زراعت پر بھی حملہ کیا ہے۔

مانع حمل ادویات پر مجوزہ ٹیکسز پر تنقید کرتے ہوئے، پی پی پی کی چیئرپرسن نے کہا کہ حکومت آبادی میں اضافے کو روکنا چاہتی ہے لیکن پیدائش پر قابو پانے والی ادویات پر ٹیکسز لگائے جارہے ہیں۔ حکومت لوگوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے اور بے روزگاری روکنے میں مکمل طور ناکام ہو گئی ہے۔

متعلقہ تحاریر