افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کریں، کانگریس ارکان کا امریکی صدر کو خط

امریکی ایوان نمائندگان کے تین ارکان نے صدر جوبائیڈن سے کہا ہے کہ افغانستان کو انسانی المیے سے بچانے کیلیے اربوں ڈالر کے اثاثے بحال کیے جائیں۔

تین امریکی کانگریس اراکین نے امریکی صدر جوبائیڈن پر زور دیا ہے کہ اربوں ڈالر مالیت کے افغانستان کے اثاثے بحال کیے جائیں تاکہ خطے میں جنم لینے والے انسانی المیے سے بچا جاسکے۔

امریکہ اور نیٹو افواج کے انخلا اور طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغانستان معاشی تباہی کے دہانے پر ہے۔

یہ بھی پڑھیے

افغانستان سے مزید پناہ گزینوں کو نکالا جاسکتا تھا،ناکامی مایوس کن ہے،شہزادہ ولیم

ازبکستان نے عدم ادائیگی پر افغانستان کی بجلی کاٹ دی

امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے صدر بائیڈن کو خط لکھ کر یہ سفارشات پیش کی ہیں، انہوں نے تجویز دی ہے کہ صرف انسانی بنیادوں پر فنڈز جاری کرکے افغان عوام کی مدد کی جائے۔

کانگریس ارکان نے یہ بھی کہا کہ افغانستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مدد کی، اب یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ افغانستان کی مدد کی جائے۔

خط میں کہا گیا کہ امریکہ نے وعدہ کیا تھا کہ فوجی انخلا کے بعد بھی ہم افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، ہم پہلے بھی ایسا کرکے اپنی اور افغان عوام کی سلامتی کیلیے خطرناک انجام سے دوچار ہوچکے ہیں۔

ہمیں اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے تاکہ 20 سال میں جو نتائج حاصل کیے وہ ضائع نہ ہوجائیں۔ کانگریس ارکان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکہ کو ایک مرتبہ پھر افغانستان کو دہشتگرد تنظیموں کا گڑھ بننے سے روکنا ہوگا۔

دوسری طرف وزیراعظم پاکستان عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے متفقہ طور پر اپنائے گئے اصول کے تحت عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ لاکھوں افغان شہریوں کو امداد فراہم کی جائے۔

متعلقہ تحاریر