چانڈکا اسپتال کے ڈاکٹروں کی موج مستیاں، مریض علاج کے لیے خوار
سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ چانڈکا اسپتال پاکستان پیپلز پارٹی کے گڑھ لاڑکانہ میں واقع ہے بلاول بھٹو زرداری کو فوری طور پر اسپتال میں بے ضابطگیوں کا نوٹس لینا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے آبائی علاقے لاڑکانہ میں قائم چانڈکا اسپتال کی ایک اور ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے جس میں ڈاکٹر صاحبان مزے سے پکوڑے کھا رہے جبکہ مریض انتظار میں خوار ہورہے ہیں۔
وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحبان ایک کمرے ٹیبل کے اردگرد بیٹھے ہیں اور پکوڑے کھاتے ہوئے خوشگپیوں میں مصروف ہیں، جبکہ کمرے کے باہر انتظار کرنے والے مریضوں کی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ڈسٹرکٹ سینٹرل اور کورنگی کے علاقے محکمہ انسداد تجاوزات کے ریڈار پر
سندھ فوڈ اتھارٹی کا لاڑکانہ میں نجی واٹر کمپنی کے پلانٹ پر چھاپہ
ڈاکٹرز کا انتظار کرنے والے مریضوں میں خواتین ، بچے ، بچیاں ، بڑھے اور جوان شامل ہیں۔
مریضوں کا کہنا ہے کہ یہ اس اسپتال کا روز کا معمول ہے ، ڈاکٹرز صاحبان جب اکٹھے ہوتے ہیں تو کمرے میں بیٹھ جاتے پھر کھانے اور چائے کے دور چلتے ہیں جبکہ ہم لوگ باہر خوار ہو رہے ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ ڈاکٹرز کھانا نہ کھائیں بلکہ ضرور کھائیں ، اگر دو ڈاکٹرز کھانا کھائیں اور دو ڈاکٹر مریضوں کو دیکھ لیں تو بیلنس ہو جائے گا۔ اس طرح مریض گھنٹوں لائن میں لگنے کی زحمت سے بھی بچ جائیں گے۔
اسی طرح گذشتوں دنوں چانڈکا اسپتال کی انتظامیہ نے رتوڈیرو کے ایک شخص کو جس کا بیٹا گردوں کی بیماری میں مبتلا تھا اس کو کراچی شفٹ کرنے کے لیے ایمبولینس فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا۔ جس کے بعد غیرمحنت کش نے اسپتال میں آئے مریضوں کے لواحقین سے چندہ جمع کرکے اپنے بیٹے کو کراچی شفٹ کیا تھا۔
واضح رہے کہ کچھ عرصہ قبل چانڈکا اسپتال کی ڈائیلیسس مشینوں میں ایڈز کے وائرس کا بھی انکشاف ہوا تھا۔ میڈیا پر خبریں چلنے کے بعد اسپتال انتظامیہ کی دوڑیں لگ گئیں تھیں۔
سماجی کارکنوں کا اس ساری صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ لاڑکانہ پاکستان پیپلزپارٹی کا گڑھ ہے اور یہ بلاول بھٹو زرداری کا حلقہ انتخاب ہے ، اس لیے پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کو چانڈکا اسپتال میں ہونے والی کوتاہیوں کا فوری نوٹس لینا چاہیے تاکہ بہتر مینجمنٹ ہوسکے اور مریض پریشانی سے بچ سکیں۔









