ایف پی سی سی آئی کا اضافی سیلز ٹیکس کیخلاف دیے گئے فیصلے کی تعریف
عرفان اقبال شیخ نے پاکستان کی تاجر برادری کے اجتماعی جذبات کا اعادہ کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ایف ٹی او ٹیکس حکام کے خلاف شکایات کے لیے ایک بہترین فورم فراہم کرتا ہے۔
کراچی: صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ نے ایک آٹوموبائل کمپنی کے خلاف متعدد شکایت کنندگان کے حق میں وفاقی ٹیکس محتسب ( ایف ٹی او) کے فیصلے کو سراہا ہے۔ ان شکایات کنندگان نے زائد سیلز ٹیکس وصول کیے جانے پر ایف بی آر اسلام آباد کے خلاف شکایات درج کروائیں تھیں۔
عرفان اقبال شیخ کا مزید کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کنزیومر پروٹیکشن میکانزم کے لیے صحیح ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ فروخت کنندگان پر ٹیکسز اور ڈیوٹیوں کی صحیح شرح وصول کرنے اور ٹیکس حکام کے لیے اکاوئنٹیبیلٹی کا احساس پیدا کرنے کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ڈبلیو ٹی او، کورونا میں بہتر معاشی کارکردگی پر پاکستانی اقدامات کی تعریف
سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے کے اثرات،معیشت پر سنبھلنے لگے
ایف پی سی سی آئی کے صدر نے کہا کہ ایف ٹی او کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ معلومات کے مطابق 24 شکایت کنندگان سے غلط طریقے سے 998 سی سی گاڑیوں کے لیے اس وقت لاگو 12.5 فیصد کے بجائے 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا گیا، یعنی جولائی 2021 کے بعد جب فنانس ایکٹ 2021 بن چکا تھا اور ان گاڑیوں پر قابل اطلاق سیلز ٹیکس 12.5 فیصد لاگو ہو چکا تھا۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایف ٹی او نے نہ صرف وصول کی گئی اضافی رقم واپس کرنے کا حکم دیا ہے؛ بلکہ انہوں نے اس عمل کو بدانتظامی کا معاملہ بھی قرار دیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر پاکستان نے ایف ٹی او کے مذکورہ فیصلے کے خلاف اپیل بھی مسترد کر دی ہے؛ کیونکہ ایف ٹی او کے فیصلوں کے خلاف اپیلیں صرف صدر پاکستان ہی کو دائر کی جا سکتی ہیں۔
یہ عمل جوایف ٹی او کی طرف سے دیے گئے معیاری فیصلوں پر اعتماد کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ عرفان اقبال شیخ نے یہ بھی کہا کہ ان کو ایڈوائزر انکم ٹیکس کراچی اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج کا بھی انتظار رہے گا؛ تاکہ بدانتظامی سے متعلق اسی طرح کی اور دیگر شکایات کو بھی حل کیا جا سکے۔
عرفان اقبال شیخ نے پاکستان کی تاجر برادری کے اجتماعی جذبات کا اعادہ کرتے ہو ئے کہا ہے کہ ایف ٹی او ٹیکس حکام کے خلاف شکایات کے لیے ایک بہترین فورم فراہم کرتا ہے اوراس ادارے کو تمام مذموم اور ذاتی مفادات سے تحفظ فراہم کیا جانا چا یئے۔









