معاشی چیلنجز: ورلڈ بینک نے نئی حکومت کے لئے خطرے کی گھنٹی بجا دی
ورلد بینک کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو معاشی میدان میں کئی چیلنجز کا سامنا رہے گا، معاشی ترقی کی شرح بڑھنے کی بجائے مزید کم ہوسکتی ہے۔
ورلڈ بینک نے نئی حکومت کے لیے معاشی چیلنجز کے انبار لگا دیئے، پست شرح نمو، توانائی کی سبسڈی اور مہنگائی میں ریلیف درد سر بن گئے۔
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی معاشی شرح نمو میں کمی کا امکان ہے۔ عالمی بنک کی یہ رپورٹ ایشیائی ممالک کے بارے میں معاشی جائزہ پیش کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
اسٹاک مارکیٹ، روپے کی قدر میں بہتری نئی حکومت کی وجہ سے نہیں
اسٹیٹ بینک نے ہفتے میں چھ دن کام کرنے کے نظرثانی شدہ اوقات جاری کردیئے
عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی معاشی شرح نمو 4.3 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ موجود حالات میں پاکستان کیلئے توانائی کے شعبے میں سبسڈی بڑا چیلنج ہے۔
رپورٹ کے مطابق خطے کی نسبت پاکستان میں توانائی کے شعبے سب سے زیادہ سبسڈی دی جاری ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اگلے سال پاکستان میں معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد ہوسکتی ہے۔ گزشتہ مالی سال پاکستان کی شرح نمو 5.6 فیصد رہی۔
رپورٹ کے مطابق روس یوکرائن جنگ کے باعث جنوبی ایشیا میں معاشی شرح نمو سست روی کا شکار ہے۔ اس سال جنوبی ایشیا میں گروتھ 6.6 فیصد رہنے کی پیشنگوئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ بھارت 8 فیصد، بنگلہ دیش 6.4 فیصد اور مالدیپ کی 7.6 فیصد گروتھ رہے گی۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق نیپال میں شرح نمو 3.7 فیصد، بھوٹان 4.4 فیصد، سری لنکا میں 2.4 فیصد رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کو معاشی میدان میں کئی چیلنجز کا سامنا رہے گا، معاشی ترقی کی شرح بڑھنے کی بجائے مزید کم ہوسکتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں عوام کو مسلسل ریلیف نہیں دیا جاسکتا۔
نئی حکومت کو بجلی اور پیٹرول پر مسلسل سبسڈی دینا ممکن نہیں ہے۔ توانائی کے شعبے میں سرکلر ڈیٹ نئی حکومت کے لیے مسائل کھڑے کرے گا۔









