لیٹر گیٹ سازش یا مفروضہ: پی ٹی آئی ،جماعت اسلامی اور ایم کیو ایم کا عدالتی کمیشن کا مطالبہ

امریکی محکمہ خارجہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف بیرون ملک سے آنے والے  مبینہ دھمکی آمیز مراسلہ کے حوالے سے بیان میں کہ تھا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور امریکہ نے کوئی دھمکی نہیں دی۔

امریکی مبینہ دھمکی سے متعلقہ مراسلہ یا "لیٹر گیٹ” کا قضیہ پاکستانی سیاست پر چھایا ہوا ہے۔حکومت ہو یا اپوزیشن،دونوں کی جانب سے مراسلے کے حوالے سے روزانہ کوئی نہ کوئی بیان سامنے آجاتا ہے جس سے معاملہ مزید الجھ جاتا ہے۔وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ کا ایک حالیہ بیان سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں متعین سابق سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی میں اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکی سازش پر مبنی کوئی خط نہیں لکھا۔اس بیان نے معاملے کو مزید الجھا دیا ہے۔

قوم تذبذب کا شکار

قوم تذبذب کا شکار ہے کہ کیا مراسلے میں مبینہ دھمکی واقعی سازش ہے یا محض مفروضہ۔

مستقبل کے سیاسی منظر نامے اور آئندہ انتخابات کے حوالے سے بھی لیٹر گیٹ کا معاملہ اہمیت اختیار کر گیا ہے جس کی عدالتی کمیشن کے ذریعے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

گورنر پنجاب نے وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کو آئین کی خلاف ورزی قرار دےدیا

نواز شریف نے لندن سے میری حکومت کے خلاف سازش کی، عمران خان

قومی سلامتی کمیٹی کیا کہتی ہے؟

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی کے اس مراسلہ کے حوالے سے اجلاس بھی ہوچکے ہیں۔

عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سے قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس مراسلہ کی مذمت کی گئی اور قائم مقام امریکی ڈپٹی چیف آف مشن کو دفتر خارجہ طلب کرکے مراسلے کے حوالے سے مبینہ دھمکی کے خلاف احتجاج کیا گیا جبکہ شہباز شریف کے وزیر اعظم بننے کے بعد قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ ملک میں حکومت کی حالیہ تبدیلی میں کسی غیر ملکی سازش کا ثبوت موجود نہیں۔

امریکی محکمہ خارجہ کی تردید

امریکی محکمہ خارجہ نے سابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپنی حکومت کے خلاف بیرون ملک سے آنے والے  مبینہ دھمکی آمیز مراسلہ کے حوالے سے بیان میں کہ تھا کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں اور امریکہ نے کوئی دھمکی نہیں دی۔

حکومت اور اپوزیشن کے متضاد دعوے

12 جماعتوں کے اتحاد پر مبنی حکومت بالخصوص وزیراعظم شہباز شریف اور مسلم لیگ نواز سے تعلق رکھنے والے وزرا زور وشور سے اس مبینہ مراسلہ میں دھمکی یا سازش ہونے کی تردید جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور پارٹی کی دیگر قیادت اس مرسلہ کے حوالے سے مبینہ سازش یا دھمکی کو حقیقی بتاتے ہوئے ملک کی اعلیٰ عدلیہ یعنی سپریم کورٹ سے مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کی تحقیقات کے لیے کمیشن کے قیام پر مسلسل زور دے رہی ہے۔

خدا جانے کہ اس آغاز کا انجام کیا ہوگا۔

تحریک انصاف ہی نہیں بعض دیگر جماعتیں بھی۔اس مراسلے کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ سے کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔

ممتاز شاعر محمد رفیع سودا نے کہا تھا کہ

ترا خط آنے سے دل کو میرے آرام کیا ہوگا

خدا  جانے کہ  اس آغاز  کا انجام  کیا  ہوگا

امریکی سازش پر مبنی خط نہیں لکھا.سفیر اسد مجید

وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے گزشتہ روز فیصل آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ امریکہ میں متعین سابق سفیر اسد مجید نے قومی سلامتی کمیٹی میں اعتراف کیا کہ انہوں نے امریکی سازش پر مبنی کوئی خط تحریر نہیں کیا بلکہ ان کے سفارتی مراسلے کے الفاظ کو تبدیل کیا گیا۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ اسد مجید نے اجلاس کو بتایا کہ ان کے مراسلے میں سازش یا عدم اعتماد کا کوئی ذکر نہیں تھا۔

رانا ثناء اللہ نے کہا کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مراسلہ وزارت خارجہ میں آیا اور شاہ محمود قریشی نے اسے اپنی نگرانی میں تبدیل کر کے مداخلت کا لفظ اس میں شامل کروایا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ عمران خان کی حکومت امریکی ساز ش یا مداخلت کی وجہ سے نہیں بلکہ انتقام کی سیاست اور تکبر کی وجہ سے ختم ہوئی۔

بیرونی سازش کا دعویٰ جھوٹا ہے ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف

پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ محمد شہباز شریف نے وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی سے خطاب میں مبینہ خط سازش کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ کچھ عرصہ سے ڈرامہ چل رہا ہے، اور ڈھٹائی کے ساتھ جھوٹ پر جھوٹ بولا جا رہا ہے کہ تحریک انصاف حکومت کے خلاف بیرونی سازش ہوئی۔

شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کہتے ہیں کہ خط سات مارچ کو آیا، ہماری ملاقاتیں اور فیصلے اس سے بہت پہلے ہو چکے تھے۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ 22 کروڑ عوام کو حقیقت جاننے کا حق حاصل ہے۔

پہلی بار مراسلہ کا معاملہ کب سامنے آیا۔؟

پہلی بار مراسلے کا معاملہ 27 مارچ کو سامنے آیا جب سابق وزیراعظم عمران خان عوامی ریلی میں اور مراسلہ عوام کے سامنے آئے۔

اسلام آباد کے پریڈ گراؤنڈ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے تحریک انصاف کے سربراہ نے نے خط دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ ملک کے باہر سے پیسے کی مدد سے حکومت تبدیل کرنے کی سازش کی جارہی ہے، ہمیں تحریری دھمکی دی گئی ہے۔

ان کا دعویٰ تھا کہ وہ الزامات نہیں لگا رہے بلکہ ان کے پاس موجود خط ان کی بات کی صداقت کی دلیل ہے۔عمران خان نے کہا تھا کہ اگر کسی کو خط کے حوالے سے شک ہے تو وہ ان کو دعوت دیں گے کہ آف دا ریکارڈ بات کریں گے اور آپ خود دیکھ سکیں گے کہ میں کس قسم کی بات کر رہا ہوں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ بیرونی سازش سے متعلق ان کے پاس ایسی کئی باتیں ہیں جو مناسب وقت پر اور بہت جلد سامنے لائی جائیں گی، قوم جاننا چاہتی ہے کہ لندن میں بیٹھا ہوئے  شحض نے کس کس سے ملاقات کی اور پاکستان میں بیٹھے ہوئے کردار کس کے کہنے پر عمل کررہے ہیں۔

عمران خان کا مراسلہ منظرعام پر لانے کی چند روز بعد 3 اپریل کو کہنا تھا کہ مراسلے میں مبینہ طور پر امریکی معاون وزیر خارجہ برائے جنوبی اور وسطی ایشیا امور ڈونلڈ لو کے ساتھ پاکستان کے سفیر کی ملاقات کی تفصیلات موجود ہیں جس میں امریکی عہدیدار نے مبینہ طور پر پاکستان کو دھمکی دی تھی۔

سربراہ تحریک انصاف نے دعویٰ کیا تھا کہ اسد مجید نے مراسلے میں کہا تھا کہ ڈونلڈ لو نے متنبہ کیا کہ عمران خان کے وزیراعظم  کے طور پر برقرار رہنے سے پاک امریکہ دو طرفہ تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

اس مراسلہ کے حوالے سے عمران خان نے دعوی کیا تھا کہ امریکہ ان کے دورہ ماسکو اور آزاد خارجہ پالیسی سے ناراض ہے۔

سپریم کورٹ عدالتی تحقیقات  کمیشن بنائے۔ شاہ محمود قریشی

پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی مطالبہ کرچکے ہیں کہ امریکی دھمکی سے متعلق متنازعہ خط کے معاملے پر عدالت عالیہ (سپریم کورٹ)تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دے۔وہ کہہ چکے ہیں ک غیر ملکی سازش کے تحت  کچھ ملاقاتیں ملک کے باہر کی گئیں۔ اس معاملے کی تحقیقات کی ضرورت ہے کہ بیرون ملک کون اور کس سے ملاقاتیں ہوتی رہی ہیں۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے پیچھے سوچا سمجھا منصوبہ۔تھا،اور یہ سب غیر ملکی سازش کا حصہ تھا۔

انہوں نے کہن اتھا کہ مراسلہ کے معاملے کو قومی سلامتی کے حوالے سے اور وسیع پر ملکی مفاد میں طے کیا جانا چاہئے۔ عدالت عالیہ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دے۔

عدالتی کمیشن بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔

امیر جماعت اسلامی سراج الحق بھی ایک سے زائد مرتبہ سپریم کورٹ سے مطالبہ کرچکے ہیں کہ مراسلہ یا لیٹر گیٹ کے حوالے سے تحقیقات کے کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ جھوٹ اور سچ سامنے آسکے۔

منصورہ لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے سپریم کورٹ سے مطالبہ کیا کہ امریکی خط کے حوالے سے جوڈیشل کمیشن بنایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوسکے۔

عمران حکومت کے خلاف سازش ہوئی یا نہیں، عدالتی کمیشن فیصلہ کرے

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے مطالبہ کیا ہے کہ دھمکی آمیز مراسلے کے تنازع کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی کا کراچی میڈیا سے گفتگو میں چند روز قبل کہنا تھا کہ اگر دھمکی آمیز مراسلے میں کوئی سازش ہوئی تو وہ نومنتخب وزیر اعظم سے تعاون ختم کرنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کریں گے جب کہ عمران خان حکومت کی برطرفی میں بین الاقوامی سازش کارفرما  ہوئی تو ان کی جماعت عمران خان کا ساتھ دے گی اور ایوان میں مزید نہیں رہے گی بلکہ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ احتجاج کرے گی۔

ایم کیو ایم نے کہا کہ عمران خان اپنا دعویٰ ثابت کریں محض  کاغذ کا ٹکڑا لہرا کر وہ نہیں بچ سکتے۔

متعلقہ تحاریر