ایف پی سی سی آئی کا اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل پر تحفظات کا اظہار

صدر ایف پی سی سی آئی عرفان اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ اکنامک ایڈوائزری کونسل کی تشکیل میں ہماری مشاورت شامل ہونے چاہیے تھی۔

کراچی: ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ نے پاکستان کی کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری سے مشاورت کے بغیر وزیراعظم میاں شہباز شریف کی سربراہی میں اقتصادی مشاورتی کونسل کی تشکیل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور بزنس کمیونٹی کو کونسل میں نمائندگی نہ دینے پر حیرانگی کا اظہار کیا ہے۔

عرفان اقبال شیخ کا اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ ایک انتہائی غیر مناسب عمل ہے۔ ایف پی سی سی آئی ملک کا اعلیٰ ترین چیمبر ہے اور اکنامک ایڈوائزری کونسل میں اس کی نمائندگی بہت سے معاشی معاملات میں وزیراعظم اور ان کی اقتصادی ٹیم کو قابل اعتماد اور بروقت معاونت فراہم کر سکتی ہے؛ جس میں بجٹ سازی، ٹیکس اور ٹیرف کے معاملات، حکومتی اور انتظامی اصلاحات، صنعت کاری، ٹیکسٹائل اور متعلقہ صنعتوں کی تر قی، انفارمیشن اینڈ کمیونکیشن ٹیکنالوجیز(ICTs)  کا فروغ، ایکسپورٹ پرا سسنگ زونز (EPZs) و اسپیشل اکنا مک زونز (SEZs)، برآمدات میں اضافہ و امپورٹ سبسٹیٹیوشن، روپے کی قدر میں استحکام اور ایس ایم ایز(SMEs) کی تر قی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانا معیشت کیلیے خطرناک

ملک میں لوڈشیڈنگ پر وزیر توانائی  نے وزیراعظم کے بیان کی نفی کردی

صدرایف پی سی سی آئی نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس سال 20 بلین ڈالر کے قریب ہو جائے گا جو کہ جی ڈی پی کے 5 فیصد سے کہیں زیادہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انفلیشن 12 فیصد سے تجاوز کر گئی ہے اور سال کے آخر تک 15 فیصد کی جانب گامزن ہے؛ جولائی تا مارچ کے نو مہینوں میں تجارتی خسارہ 35 بلین ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے۔

ایف پی سی سی آئی کے صدر کا کہنا ہے کہ کراچی انٹربینک ریٹ (KIBOR) 13 سال کے بعد 14.10 فیصد ہو گیا ہے اور 6 ماہ کے ٹریژری بلز 22 سال بعد 14.99 فیصد پر پہنچ گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایکسپورٹس، ترسیلات زر اور ٹیکسوں کی ریکارڈ کلیکشن کے باوجود ہو رہا ہے۔

چند روز قبل معاشی ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز دیتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی نے وسیع تر قومی مفاد میں اجتماعی طور پر معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ساتھ ایک نتیجہ خیز مشاورتی عمل شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم عرفان اقبال شیخ نے اپنے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ کاروباری، صنعتی اور تاجر برادری سے مشورہ کیے بغیر اقتصادی پالیسیوں کا اعلان کسی صورت نہیں کیا جانا چاہیے، کیونکہ وہ صیحح معنوں میں معیشت کے حقیقی اسٹیک ہولڈرز ہیں۔

متعلقہ تحاریر