ایف بی آر کا سی این جی اور اسٹیل مصنوعات پر سیلز ٹیکس کا نوٹیفکیشن
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے نوٹیفکیشن 1464 اور 1465 سے سی این جی اور اسٹیل مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے اسٹیل مصنوعات پر سیلز ٹیکس کی وصولی کیلئے نیا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے۔ جس کے مطابق ایف بی آر نے ٹیکس وصولی کیلئے اسٹیل مصنوعات کی ویلیو کا تعین کر دیا ہے۔ اسٹیل بار کی قیمت 1 لاکھ 53 ہزار روپے فی میٹرک ٹن مقرر کر دی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق اسٹیل بار کی قیمتوں میں 13 ہزار روپے فی میٹرک ٹن کا اضافہ کر دیا گیا کرلیا ہے اور اسی طرح اسٹیل بالا کی قیمت 1 لاکھ 26 ہزار روپے فی میٹرک ٹن مقرر کر دی، نوٹیفیکیشن کے مطابق شپ پلیٹس کی ویلیو 1 لاکھ 26 ہزار روپے فی میٹرک ٹن مقرر کر دی گئی۔
یہ بھی پڑھیے
ایف بی آر کا سگریٹ کے بعد چینی پر ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم لگانے کا فیصلہ
وزیراعلیٰ کے پی کے کا بدعنوان عناصر کے خلاف فوری ایکشن کا عندیہ
ایف بی آر نے اسٹیل اسکریپ کی قیمت 1 لاکھ 19 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ اب ان اشیا پر طے شدہ شرح کے مطابق سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ اس طرح مختلف اسٹیل مصنوعات پر پہلے سے زیادہ سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا جس سے اسٹیل مصنوعات مزید مہنگی ہوجائیں گی۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے سی این جی سیکٹر کے لیے بھی سیلز ٹیکس کی طے کردہ قیمت میں 64 روپے کا اضافہ کردیا ہے۔ ریجن ون جس میں خیبر پختون خوا اور پوٹھوہار ریجن شامل ہیں، وہاں پہلے حکومت 74 روپے فی کلو کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کرلی تھی اور حکومت کو 12 روپے 58 پیسے سیلز ٹیکس ملتا تھا اب ٹیکس کی وصولی کی قیمت 134 روپے 57 پیسے فی کلو مقرر کی گئی ہے اور حکومت کو 22 روپے 87 پیسے فی کلو سیلز ٹیکس ملے گا۔
ریجن ٹو جس میں سندھ اور پنجاب شامل ہیں کے لیے سیلز ٹیکس کی بنیادی قیمت 69 روپے 57 پیسے فی کلو سے بڑھا کر 128 روپے 11 پیسے فی کلو مقرر کردی ہے۔ اس طرح سندھ اور پنجاب سے سی این جی پر سیلز ٹیکس کی مد میں 11 روپے 82 پیسے فی کلو سیلز ٹیکس ملتا تھا اب 21 روپے 77 پیسے فی کلو سیلز ٹیکس ملے گا۔
ادھر آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ جی ایس ٹی میں اضافے سے سی این جی کی کنزیومر پرائس میں ساڑھے دس روپے فی کلو اضافہ ہوگیا ہے۔
عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایک جانب حکومت پٹرول کیلئے جی ایس ٹی میں کمی لا رہی ہے تو دوسری جانب گیس کیلئے جی ایس ٹی میں اضافہ انتہائی زیادتی ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ ایل این جی کا ریٹ تاریخ کے اونچی ترین سطح پر پہنچا ہوا ہے اور ڈالر کی قدر میں تاریخی اضافے کی وجہ سے گیس کے ریٹ میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ہے تو ایسے وقت میں ٹیکسوں میں اضافہ انتہائی ناانصافی اور ناجائز اقدام ہے۔
ان کا کہنا تھا سی این جی کیلئے جی ایس ٹی میں اچانک دوگنا اضافہ کر دیا گیا ہے جس سے ماحول دوست ایندھن کی قیمت میں 10.30 روپے فی کلو اضافہ ہو گیا ہے جو سی این جی صارفین کیلئے ناقابل برداشت ہے۔ موجودہ حالات میں سی این جی سیکٹر ٹیکسوں کا مزید بوجھ اٹھانے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ ہو جائے گا، پٹرول کا استعمال بڑھنے سے امپورٹ بل میں اضافہ ہوجائے گا، سی این جی استعمال میں کمی سے شہروں میں فوگ اور ماحولیاتی آلودگی بڑھے گی۔
سی این جی سیکٹر ٹیکس ادا کرنا چاہتا ہے تاہم ودھولڈنگ ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے بنیادی فارمولے سے ہمیں اصولی اختلاف ہے جو ہم نے وزیر خزانہ شوکت ترین سے میٹنگ میں گوش گزار بھی کیا تھا اور انہوں نے آئی ایم ایف پروگرام سے واپسی کے بعد ہمارے ساتھ مشاورت کا عندیہ دیا تھا لیکن اس کے برعکس ہمارے سے بغیر مشاورت کئے رات گئے اچانک سیلز ٹیکس کے بنیادی قیمت میں دوگنی کر دی گئی جو انتہائی ناانصافی اور ظالمانہ اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی سیکٹر پہلے ہی دیگر شعبوں کی نسبت زیادہ ریٹس پر گیس خرید رہا ہے اور پٹرول سے قیمت کی مسابقت کی وجہ سے سی این جی کا ریٹ ایک حد سے زیادہ بڑھایا نہیں جا سکتا۔ قیمت میں اضافے سے سی این جی شعبہ بند، لاکھوں افراد بیروزگار اور ساڑھے چار سو ارب کی سرمایہ کاری ضائع ہوجائے گی۔









