بینکوں کے خلاف شکایات میں 46 فیصد اضافہ
بینکنگ محتسب کا کہنا ہے مشکوک کالوں کی وصولی پر صارفین کو فوری طور پر قریبی بینک برانچ سے رجوع کرنا چاہیے یا اس کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرنا چاہیے۔
بینکوں کی جانب سے جدید ترین ٹیکنالوجیز متعارف کروانے کے باوجود، گزشتہ سال کے مقابلے 2021 میں صارفین کی شکایات میں 46 فیصد اضافہ ہوا۔ اس بات کا انکشاف منگل کو جاری کردہ بینکنگ محتسب آف پاکستان (بی ایم پی) کی سالانہ رپورٹ میں ہوا ہے۔
بینکنگ محتسب آف پاکستان (بی ایم پی) نے 2021 کے دوران 37 ہزار 364 شکایات درج کرائی گئی ، 32 ہزار 592 شکایات پر عملدرآمد کرتے ہوئے بینکنگ صارفین کو 709 ملین روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
معیشت پر اپوزیشن کی بےجا تنقید پر وزیر خزانہ کا کرارا جواب
ایک ارب ڈالر مالیت والے مشرق وسطیٰ کے 5 اسٹارٹ اپس
بینکنگ محتسب آف پاکستان کی جانب سے شکایات کا بڑا ڈیٹا اس لیے جاری کیا گیا ہے کیونکہ آج کل دھوکہ دہی کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔
بی ایم پی نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ موصول ہونے والی شکایات میں سے 87 فیصد کا ازالہ کردیا گیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کل شکایات میں سے 87 فیصد کا ازالہ بی ایم پی نے کیا۔ 2020 میں 21,360 شکایات کا ازالہ کرکے صارفین کو 598 ملین روپے کا ریلیف فراہم کیا گیا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2021 میں وزیراعظم کے پورٹل سے 18,762 شکایات سمیت 33,196 نئی شکایات بی ایم پی سیکرٹریٹ کو موصول ہوئیں جبکہ پچھلے سال کی موصول ہونے والی شکایات میں سے 4167 پر ابھی عملدرآمد ہونا باقی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "بی ایم پی آفس نے تجویز کردہ کوویڈ ایس او پیز پر عمل کرتے ہوئے شکایات کو نمٹانے کی باقاعدہ رفتار کو برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔”
بی ایم پی نے ٹیکنالوجی کے ساتھ رفتار برقرار رکھنے ، آئی ٹی سسٹم کو اپ گریڈ کرنے اور اپنی ویب سائٹ کو بہتر بنانے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "تبدیل شدہ ویب سائٹ عام لوگوں کے لیے ایک آن لائن شکایتی پورٹل پر مشتمل ہوگی جس کے بعد اس سال جون میں ایس ایم ایس سروسز کا آغاز کیا جائے گا تاکہ صارفین کو ان کی شکایات کی صورتحال سے باخبر رکھا جا سکے۔”
بینکنگ محتسب کامران شہزاد نے صارفین پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اپنی ذاتی اور مالی دستاویزات کسی تیسرے شخص کے ساتھ شیئر نہ کریں۔ ان کا کہنا ہے ہدایت دینے کا مقصد لوگوں کو دھوکہ دہی کی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہے جو آج کل بہت عام ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مشکوک کالوں کی وصولی پر صارفین کو فوری طور پر قریبی بینک برانچ سے رجوع کرنا چاہیے یا اس کی ہیلپ لائن سے رابطہ کرنا چاہیے۔









