نیوزی لینڈ کی حاملہ خاتون صحافی نے طالبان سے مدد مانگ لی
کورونا کی وجہ سےعائد ہونے والی سفری پابندیوں کی وجہ سے جب اُنہیں ان ہی کے ملک کی جانب سے وطن جانے کی اجازت نہیں دی گئی
خلیجی ملک قطر میں نیوز نیٹ ورک الجزیرہ میں ملازمت کرنے والی نیوزی لینڈ کی خاتون صحافی شارلوٹ بیلیس نے حاملہ ہونے پر کورونا وائرس کے باعث عائد پابندیوں کی وجہ سے اپنے ہی ملک میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر افغان طالبان سے مدد مانگ لی۔
صحافی شارلوٹ بیلیس نے انکشاف کیا ہے کہ کورونا کی وجہ سےعائد ہونے والی سفری پابندیوں کی وجہ سے جب اُنہیں ان ہی کے ملک کی جانب سے وطن جانے کی اجازت نہیں دی گئی تو انہوں نے کابل میں طالبان سے پناہ کی درخواست کی تھی جس کو طالبان نے قبول کرتے ہوئے کابل میں رہنے کی اجازت دی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
نیوزی لینڈ میں کم عمر بچوں کے سگریٹ خریدنے پر پابندی
نیوزی لینڈ کے شہر آکلینڈ میں’کلائمیٹ ٹیکس‘ متعارف کرا دیا گیا
تفصیلات کے مطابق شارلٹ بیلیس نے ریڈیو نیوزی لینڈ کے ساتھ ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ وہ الجزیرہ ٹی وی کے ساتھ کام کررہی تھیں جہاں ان کے ساتھ فوٹوگرافر پارٹنر جم ہیولبروک بھی اپنی پیشہ ورانہ ذمہ دارایاں انجام دے رہےتھے ، شارلٹ بیلیس نے بتایا کہ اس دوران ان کو احساس ہوا کہ وہ غیر ازدواجی تعلق کی وجہ سے حاملہ ہوگئیں ہیں ۔
انھوں نے بتایا کہ قطر میں غیر شادی شدہ ہوتے ہوئے حاملہ ہونا غیر قانونی ہے، اس لیے انھوں نے حمل کو خفیہ رکھا اور اس دوران نیوزی لینڈ واپس جانے کی تیاری کرنے لگیں، تاہم عالمی وباء کورونا وائرس کی وجہ سے عائد ہونے والی سفری پابندیوں کی وجہ سے جب اُنہیں ان ہی کے ملک کی جانب سے وطن جانے کی اجازت نہیں دی گئی تو انہوں نے دیگر یورپ کے دیگر ممالک میں قیام کا فیصلہ کیا تاہم وہ وہاں بھی زیادہ عرصہ نہیں رہ سکتی تھیں ۔
انھوں نے بتایا کہ ہم دونوں نے بیلجیم جانے کا فیصلہ کیا جہاں انہوں نے اپنے ملک کی پروازیں کھلنے کا انتظار کیا تاہم قوانین کے مطابق وہ زیادہ عرصہ تک یورپی یونین کے کسی ملک میں قیام نہیں کر سکتی تھیں اسلئے انہوں نے نیوزی لینڈ میں قائم کردہ مینیجڈ آئسولیشن کوارنٹین (ایم آئی قیو) کی فہرست میں جگہ بنانے کیلئے کوشش کی تاہم انہیں کامیابی نہیں ملی۔
خاتون صحافی نے بتایا کہ ہر جگہ سے ناامید ہونے کےبعد ان کے پاس آخری امید افغانستان ہی بچا تھا وہ امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے انخلاء کے بعد سے افغانستان میں صحافتی ذمہ داریاں انجام دے رہی تھیں اس لئے ان دونوں کے پاس افغانستان میں رہنے کے لیے ویزا موجود تھا ۔
شارلٹ بیلس نے کہا کہ انھوں نے طالبان کے سینئر رہنماؤں سے رابطہ کیا تو طالبان نے انھیں اعتماد دلایا کہ آپ کابل آسکتی ہیں اور افغانستان میں اپنے بچے کو جنم دے سکتی ہیں آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا، فکر مت کریں، سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔
انہوں نے نیوزی لینڈ کی حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب مجھے میرے ملک کی ضرورت تھی تب حکومت نے میرا استقبال نہیں کیا ، خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ معاملہ اُس وقت حل ہوا جب نیوزی لینڈ میں کورونا سے جڑے مسائل کے حل کیلئے تعینات وزیر کرس ہپکنز کو شارلوٹ کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ خاتون صحافی کا کہنا ہے کہ اُن کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل نہیں کیا گیا بلکہ نیوزی لینڈ نے مجبوری میں یہ اقدام بین الاقوامی سطح پر سیاسی درد سر سے بچنے کیلئے کیا ہے۔









