پاکستان نے ازبکستان کو حلال گوشت کی برآمد شروع کردی

سی ای او شاہین گروپ کا کہنا ہے ایک ماہ میں 900 ٹن حلال گوشت طورخم کے راستے تاشقند بھیجا جائے گا۔ 18 ٹن کے 50 کنسائنمنٹس بھیجی جائیں گی۔

وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ تجارت کے امکانات کو بڑھانے کی غرض سے پاکستانی برآمدکنندگان نے زمینی راستے سے ازبکستان کو حلال گوشت کی برآمد شروع کر دی ہے۔

انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ آف گڈز (ٹی آئی آر) ​​کنونشن میں پاکستان کی شمولیت سے علاقائی تجارت کی نئی راہیں کھل گئی ہیں اور اس کے نتیجے میں پاکستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے درمیان دو طرفہ تجارت بڑھے گی۔

یہ بھی پڑھیے

آئی ٹی برآمدات کو 50 ارب ڈالر تک لے کرجائیں گے، وزیر خزانہ شوکت ترین

اسٹیٹ بینک کی چھٹی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود 9.75 فیصد برقرار

پارلیمانی سیکریٹری برائے اقتصادی امور شیخ یعقوب نے اپنی نگرانی میں 18 ٹن حلال گوشت کی پہلی کھیپ بدھ کے روز ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند روانہ کی۔

اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہین گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مل شیر خان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیائی مارکیٹ اس وقت حلال گوشت کی سب سے بڑی مارکیٹ یے ۔

شاہین گروپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ملک شیر خان نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ وسطی ایشیا میں حلال فوڈ کی ایک بڑی مارکیٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل ٹرانسپورٹ آف گڈز (ٹی آئی آر) نے پاکستان کے لیے اس خطے تک رسائی کو آسان بنا دیا ہے۔

ملک شیر خان کا کہنا تھا کہ ایک ماہ میں 900 ٹن حلال گوشت طورخم کے راستے تاشقند بھیجا جائے گا۔ انہوں نےبتایا کہ 18 ٹن کے 50 کنسائنمنٹس بھیجی جائیں گی ۔ ایک کھیپ کو پاکستان سے تاشقند پہنچنے میں آٹھ دن لگتے ہیں۔”

انہوں نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ تاجکستان کو گوشت کی برآمدگی کے لیے ازبکستان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔

سی ای او شاہین گروپ کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے تاشقند تک تمام راستوں کا سروے کیا ہے، انہوں نے بتایا کہ طورخم بارڈر مکمل طور پر محفوظ ہے اور تمام وسطی ایشیائی ریاستیں اس سے منسلک ہیں۔

ملک شیر خان کا کہنا تھا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ دو طرفہ تجارت بڑھنے سے گڈر ٹرانسپورٹ کو سہولیات فراہم کی جائیں گی اور کرایوں میں کمی کی جائے گی۔ پاکستان سے گوشت لے جانے والے کنٹینرز روئی لے کر پاکستان واپس آئیں گے۔”

انہوں نے کہا کہ ایکسل لوڈ کے معیارات پر سختی سے عمل درآمد کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے کنٹینرز پاکستان سے وسطی ایشیا تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ حکومتی سطح پر اس نظام کو مزید بہتر کیا جا رہا ہے جس سے برآمدات کو فائدہ پہنچے گا۔

متعلقہ تحاریر