ای سی پی  ترمیمی آرڈینس کو خلا ف قانون قراردیناقابل ستائش ہے ، احمد بلال محبوب

یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی آرڈیننس کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا

پلڈاٹ کے سربراہ نے کہا ہے کہ  الیکشن کمیشن کی جانب سے پاکستان نے الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کو خلاف قانون قرار دینے کے ساتھ ایک ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق جاری کرنا قابل ستائش ہے۔

پاكستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیویلیمپنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) كے سربراہ احمد بلال محبوب نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ترمی شدہ ضابطہ اخلاق  کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس  کے حوالے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی )کا حکم انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہ شاید پہلی بار ہوا ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی آرڈیننس کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا، اس کی پاسداری سے انکار کیا اور ایک ترمیم شدہ ضابطہ اخلاق جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیے

سینیٹ کے 45روزہ اجلاس میں صرف48گھنٹے کام ہوسکا،پلڈاٹ

پلڈاٹ نے بلاول بھٹو کو اسمبلی کا سب سے متحریک رکن قرار دے دیا

انھوں نے کہا کہ  وہ تمام افراد جو اس معاملے پر سنجیدہ  دلچسپی رکھتے ہیں انھیں الیکشن کمیشن کے جاری کردہ  ضابطہ اخلاق جوقانونی طورپر ایک مستند دستاویز ہے کو غور سے پڑھنا چاہیے ۔ یہ ورکرز پارٹی کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے پر مبنی ہے جس کے مطابق الیکشن کمیشن بدعنوانی کے خلاف  حفاظت کے لیے پیشگی کارروائی کر سکتا ہے اور کرنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بہت اہم ہے تاہم اس کے آئینی اور غیر آئینی  ہونے کا فیصلہ سپریم کورٹ کرے گا۔

واضح رہے کہ  الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کردہ حکمنامے کے مطابق سیکشن 181 اے الیکشن ایکٹ کی شق 233 سے براہ راست متصادم ہے، قانون میں ترمیم شفافیت اور تمام امیدواروں کو یکساں مواقع دینے کے برخلاف ہے، وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنرز کے انتخابی مہم چلانے پر پابندی برقرار ہے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق اسپیکرز، وفاقی وزراء اور وزیراعظم کے مشیر بھی انتخابی مہم نہیں چلا سکیں گے، اراکین اسمبلی اور سینیٹرز کو انتخابی مہم چلانے کی مشروط اجازت ہوگی، انتخابی مہم میں حصہ لینے والے اراکین پارلیمنٹ قواعد کے پابند ہونگے، منتخب بلدیاتی نمائندے بھی قواعد کے تحت انتخابی مہم میں حصہ لے سکیں گے۔

ضابطہ اخلاق کے مطابق الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس کے بعد سیاسی جماعتوں سے مشاورت کی گئی، انتخابی ضابطہ اخلاق بنانا الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، ترمیمی آرڈیننس الیکشن کمیشن کے مینڈیٹ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جاری کیا گیا۔

متعلقہ تحاریر