دادو میں آتشزدگی،20 جھونپڑیاں، مال مویشی خاکستر

آتشزدگی میں  20 سے زائد کچے گھر ، جل کر خاکستر ہوگئے، آتشزدگی سے، ذخیرہ شدہ اناج، مویشیوں سمیت گھروں کا سازوسامان جل گیا

ضلع دادو میں  ایک ہفتے کے دوران آتشزدگی کا دوسرا واقع ، 20 سے زائد مکانات ، ذخیرہ شدہ اناج ، مویشیوں سمیت گھروں کا سازوسامان جل کر خاکستر ہوگیا۔

گذشتہ روز ضلع دادوکی تحصیل میہڑ  کے گاؤں نور پور میں   آتشزدگی کا واقع پیش آیا جس میں  20 سے زائد کچے گھر ، جل کر خاکستر ہوگئے، آتشزدگی سے، ذخیرہ شدہ اناج، مویشیوں سمیت گھروں کا سازوسامان جل گیا، حادثے کی اطلاعات دینے کے باوجود آگ تین گھنٹوں تک جاری رہی تاہم کوئی ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کی کوئی گاڑی نہیں پہنچ سکی۔

یہ بھی پڑھیے

میہڑ میں آتشزدگی، غفلت برتنے پر ڈی سی ، ڈی ایچ او دادو اور اے سی میہڑ معطل

فیض محمد دریائی میں قیامت کا منظر، وزیراعلیٰ سندھ صرف اعلانات تک محدود

ڈپٹی کمشنر دادو سید مرتضیٰ شاہ  نے واقع کے بعد متاثرہ علاقے کا دورہ کرتے ہوئے میڈیا سےبات کرتےہوئے بتایا  کہ آگ  دوپہر 1:40 بجے کے قریب ایک مکان کی چھت پر لگی  اور تیز ہوا کے باعث پڑوس کے گھروں تک پہنچ گئی ، انھوں نے بتایا کہ  میہڑ کی تحصیل انتظامیہ آگ پر قابو پانے کے لیے فائربریگیڈ بھیجنے میں ناکام رہی جس کے باعث متاثرین نے اپنی  مدد آپ کے تھٹ آگ بجھانے کا کام انجام دیا ۔

متاثرین نے شکوہ کیا ہے کہ آگ لگنے کی اطلاع  دینے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے کوئی ا مداد نہیں پہنچی ، متاثرین نے تین گھنٹوں تک آگ  پر قابوپانے کی کوششیں جاری رکھیں تاہم اس دوران ذخیرہ شدہ اناج تباہ اور مویشی جھلس کر ہلاک ہوگئے

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے میہڑ کے گاؤں فیض محمد دریانی میں بھی آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں درجنوں مکانات جل گئے تھے جبکہ 6 بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق واقعے کا ایک زخمی بچہ اسپتال میں دوران علاج دم توڑ گیا، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 10 ہوگئی۔

متعلقہ تحاریر