انڈیا کے ساتھ تجارت ، انجمن کاشتکاراں قصور نے حکومت کو وارننگ دے دی
کسان رہنماؤں کا کہنا ہے اگر حکومت نے انڈیا کے ساتھ زرعی اجناس کی تجارت شروع کی تو کسان اپنے حق کے لیے سارے ملک میں احتجاج کریں گے۔
انجمن کاشتکاراں قصور کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے انڈیا سے زرعی اجناس کے حوالے سے کوئی بھی چیز خریدی تو کسی صورت برداش نہیں کریں گے۔
قصور میں انجمن کاشتکاراں قصور کا انڈیا کے ساتھ تجارت کرنے کے خلاف اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں انجمن کاشتکاراں کے عہدیداروں اور ممبران نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے
سیالکوٹ میں بھینس کو گولی مارنے والا جنونی ٹک ٹاکر گرفتار
لیگی حکومت میں گھروں کی بجائے سڑکوں اور فٹ پاتھز پر بجلی کا ضیاع
قصور میں انجمن کاشتکاراں قصور کا انڈیا کے ساتھ تجارت کرنے کے خلاف اجلاس منعقد ہوا اجلاس میں صدر انجمن کاشتکاراں حاجی ثناء اللہ ، شہباز خان ایڈووکیٹ ، چوہدری کرامت علی کے علاؤہ دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔
جنرل سیکرٹری شہباز خان ایڈووکیٹ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انڈیا کے ساتھ زراعت کا کاروبار نہیں کرسکتے۔ اگر کوئی بھی چیز انڈیا سے امپورٹ کی گئی تو کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے بلکہ احتجاج کریں گے۔
ان کا کہنا تھا حکومت کی طرف سے انڈیا کے ساتھ زرعی تجارت کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اس میں اللہ کے فضل و کرم سے ہر زرعی اجناس وافر مقدار موجود ہے۔
چوہدری کرامت علی انفارمیشن سیکرٹری ، صدر حاجی ثناءاللہ اور نائب صدر شاہد ندیم ایڈووکیٹ نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ہمارے کسانوں کو ڈی اے پی اور یوریا کھاد 2400 کی مل رہی ہے جبکہ بجلی کا فی یونٹ ٹیوب ویل 18 روپے کا ہے جو چارج کیا جاتا ہے۔
کسان رہنماؤں کا کہنا تھا انڈیا میں پاکستانی کرنسی ریٹ کے حساب سے ڈی اے پی 4000 اور یوریا 9000 روپے ہے پاکستان میں کھاد , بجلی ، ڈیزل ، مہنگے داموں ملنے کی وجہ سے فصلوں پر اخراجات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کاشتکاروں کے ساتھ ناانصافی ان کے معاشی قتل کے مترادف ہے، تمام کاشتکار اس کی بھرپور مذہمت کرتے ہیں اور ایسا ہرگز نہیں کرنے دیں گے ، اور اگر ایسا ہوا تو تمام کاشتکار سڑکوں پر نکل کر اپنے حق میں احتجاج کریں گے جو ان کا بنیادی حق ہے۔
انجمن کاشتکاراں کے اجلاس میں چیرمین حاجی ارشد علی چوہدری کے لیے مغفرت کی دعا کی گئی۔ کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور آخر میں ملک کی سلامتی کے لیے دعا کی گئی۔









