کرسچن ٹرنر ایک بہادر پاکستانی ماں کے معترف

برطانوی سفارتکار فوزیہ یونس کی والدہ گذشتہ جمعے کرونا کی وباء کی وجہ سے انتقال کرگئیں تھیں۔

جہاں آج کل سماجی رابطوں کی ویب سائٹس تعلیم یافتہ خواتین کے کارناموں سے بھری پڑی ہیں وہیں پاکستان میں تعینات برطانوی سفیر کرسچن ٹرنر نے برطانیہ میں بہادری سے زندگی گزارنے والی ایک عام سی غیرتعلیم یافتہ پاکستانی بہادر ماں کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

پاکستانی نژاد برطانوی سفارت کار فوزیہ یونس کی والدہ گذشتہ جمعے کو کرونا کی وباء کی وجہ سے انتقال کر گئیں تھیں۔

فوزیہ یونس نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی والدہ کے قصے سناتے ہوئے لکھا ہے کہ میری والدہ 18 سال کی عمر میں شادی کرکے برطانیہ پہنچی تھیں جب ایک نئی نویلی دلہن کے دل میں خوف اور امید کے تاثرات ایک ساتھ جمع ہوتے ہیں۔

 

فوزیہ یونس لکھتی ہیں کہ میری والدہ جس گھر میں گئیں تھیں وہ میری خالہ کا گھر تھا جو 2 کمروں پر مشتمل تھا جو انہوں نے اپنے 4 بچوں، دادا اور والد کے دفتر میں تقسیم کررکھا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

ایویسینا اسکول نے ٹیچر کی تنخواہ روک لی

تعلیم کے بغیر بیرون ملک زندگی کی پیچیدگیوں کی وضاحت کرتے ہوئے فوزیہ نے اپنی والدہ کے بارے میں لکھا کہ انہوں نے کبھی اسکول میں نہیں پڑھا تھا جس کی وجہ سے میری والدہ اپنے اہل خانہ کو خط لکھنے سے قاصر تھیں، اس لیے وہ پاکستان میں اپنے پیاروں سے رابطہ کرنے کے لیے آڈیو کیسیٹ پر بھروسہ کرتی تھیں۔

برطانوی سفارتکار فوزیہ یونس لکھتی ہیں کہ ایک عقیدت مند ماں اور ساتھی ہونے کے ناطے ان خاتون نے اپنے گھر والوں کی فلاح و بہبود کے لئے دن رات کام کیا۔

فوزیہ یونس نے لکھا ہے کہ میری والدہ میرے اسکول کے اخراجات کے لیے فارغ اوقات میں سلائی کرکے پیسے کماتی تھیں۔ میری والدہ کوئی معمولی ماں نہیں تھی انہوں نے مجھے اعتماد دیا اور ضرورت پڑنے پر میری حمایت بھی کی۔

فوزیہ یونس لکھتی ہیں کہ لڑکیوں کو تعلیم کے لیے ایک مضبوط وکیل کی ضرورت ہوتی ہے جس کا کردار میری والدہ نے اداکیا، میری والدہ مجھے لائنریری لے کر جاتی تھیں۔ مجھے خبریں سننے پر مجبور کرتی تھیں۔ اسکول انتظامیہ کے ساتھ تعلیمی دورے پر روانہ کرتی تھیں جب بہت سی ایشیائی لڑکیوں کو اہل خانہ کی جانب سے اکیلے سفر کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔

9/11 کو یاد کرتے ہوئے فوزیہ یونس لکھتی ہیں کہ نائن الیون کے واقعے کے بعد ساری دنیا کے مسلمان پریشانی کا شکار تھے وہیں میری والدہ نے برطانیہ میں موجود اپنی برادری کو حالات سے جوانمردی سے لڑنے کا حوصلہ دیا تھا۔

اُن کی والدہ خواتین کے حقوق کے بارے میں بہت مخلص تھیں۔ انھوں نے 4 کامیاب انسانوں کی پرورش کی جو اس وقت برطانیہ میں معروف اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان میں تعینات برطانوی سفیر کرسچن ٹرنر نے فوزیہ یونس کے ٹوئٹ کو کوٹ ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کی والدہ کو برطانیہ میں ایک بہترین زندگی گزازنے پر خراج تحسین پیش کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر