علی ظفر بھی سندھی لوک گیت پر رقص کرتے  بچے کے فین ہوگئے

علی ظفر نے مقبول ترین بلوچی لوک گیت ’’لیلا او لیلا‘‘کی کامیابی کے بعد سندھی ’’الے مجھ مارواری‘‘ گایا

موسیقی فن کی ایک شکل ہے جس میں آواز اور خاموشی کو وقت میں ایسے ترتیب دیا جاتا ہے کہ اُس سے سُر پیدا ہوتے ہیں کہا جاتا ہے کہ موسیقی کی اپنی کوئی زبان نہیں ہوتی یعنی  موسیقی کسی بھی قوم اور یا خطے کی میراث نہیں، اس بات کے بے شمار ثبوت ہیں تاہم اس کا ایک اور ثبوت  گلوکارعلی ظفر جن کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے انھوں نے  دیا۔

گلوکار نے مقبول ترین بلوچی لوک گیت ’’لیلا او لیلا ‘‘کی کامیابی کے بعد سندھی  لوگ گیت ’’الے مجھ مارواری ‘‘ گایا اور اس گانے کو بھی بلوچی لوک گیت لیلا او لیلا جیسی ہی پزیرائی ملی۔

یہ بھی پڑھیے

اداکارہ ریما گلوکار علی ظفر کے نئے پشتو گیت کی مداح نکلیں

قطر گراں پری سے مسرور علی ظفر قطری حکومت کے شکر گزار

گذشتہ روز سماجی رابطوں کی مختلف ویب سائٹس پر  ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک کمسن بچہ سندھی ٹوپی اور اجرک پہنے ہوئے علی ظفر کے گائے ہوئے سندھی  لوگ گیت ’’الے مجھ مارواری ‘‘ پر رقص کرتے دیکھا گیا ۔

گلوکار علی ظفر نے بھی  آپنے آفیشل ٹوئٹر اکاؤنٹ سے اس کمسن بچے کی اپنے گانے پر رقص کی ویڈیو شیئر کرتے ہئے  محبت کا اظہار کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر