سینیٹر فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن میں نااہلی رکوانے کی درخواست ہائی کورٹ سے خارج
عدالت دونوں جانب کے دلائل سننے کے بعد الیکشن کمیشن کو نااہلی کیس کے حوالے سے دو ماہ میں فیصلہ سنانے کا فیصلہ برقرار رکھا۔
سینیٹر فیصل واوڈا کو ایک اور دھچکا ۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن میں ااہلی کیس کی کارروائی روکنے کی انٹرا کورٹ اپیل خارج کر دی ہے۔
فیصل واؤڈا کی الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس کی کارروائی رکوانے کی درخواست خارج کرتے ہوئے جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہری شہریت چھوڑنے کا بیان درست تھا تو مسئلہ نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیے
خیبر پختون خوا حکومت کا بڑا قدم، مساجد کے خطیبوں کا ماہانہ وظیفہ 21 ہزار روپے مقرر
فیصل آباد واقعہ ، سی سی ٹی وی فوٹیج نے خانہ بدوش خواتین کا بھانڈا پھوڑ دیا
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی ۔ سینیٹر فیصل واوڈا نے نااہلی کیس کی کارروائی رکوانے کے لیے درخواست دائر کررکھی تھی۔
جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن میں کیا کارروائی چل رہی ہیں جو آپ رکوانا چاہتے ہیں؟ جس پر فیصل واوڈا کے وکیل نے کہا کہ سینیٹ میں فیصل واؤڈا کے مدمقابل امیدوار نے بیان حلفی کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست دے رکھی ہے۔
جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیئے کہ اگر آپ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کراتے ہیں تو بیان حلفی جمع کراتے ہیں، اگر گزشتہ الیکشن میں جمع کرایا گیا بیان حلفی بھی جھوٹا ہو تو وہ امیدوار الیکشن لڑنے کا اہل نہیں، فیصل واؤڈا نے جو بیان حلفی دیا تھا کیا وہ درست تھا؟
جس پر ان کے وکیل کا کہنا تھاکہ سینیٹ میں فیصل واؤڈا کے مدمقابل امیدوار نے بیان حلفی کی بنیاد پر نااہلی کی درخواست دے رکھی ہے۔جس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ اگر آپ الیکشن کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کراتے ہیں تو بیان حلفی جمع کراتے ہیں، اگر گزشتہ الیکشن میں جمع کرایا گیا بیان حلفی بھی جھوٹا ہو تو وہ امیدوار الیکشن لڑنے کا اہل نہیں۔
معزز جج نے استفسار کیا کہ فیصل واؤڈا نے جو بیان حلفی دیا تھا کیا وہ درست تھا؟۔جس پرفیصل واؤڈا کے وکیل نے کہا کہ جی، بیان حلفی درست تھا، ہم نے الیکشن کمیشن میں بھی لکھ کر دے رکھا ہے۔جس پر عدالت نے کہا کہ پھر آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہئے، بیان حلفی کی تحقیقات مکمل ہونے دیں، جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ادھر بھی آپ نے ڈیڑھ سال جواب جمع نہیں کرایا۔عدالت عالیہ نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کو ہدایات جاری کر دیتے ہیں کہ اس معاملے کو ایک ماہ میں نمٹائے۔
جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ یہ معاملہ ڈیڑھ سال تو یہاں رہا، تب بھی چھپن چھپائی کھیلی جاتی رہی، ہم سے التوا اور الیکشن کمیشن سے اپیل زیر التوا ہونے پر ریلیف مانگیں گے۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصل واوڈا کی الیکشن کمیشن میں نااہلی کیس رکوانے کی انٹراکورٹ اپیل مسترد کرتے ہوئے اس کیس میں چیف جسٹس اطہرمن اللہ کا الیکشن کمیشن کو نااہلی کیس کا دو ماہ میں فیصلہ کرنے کا حکم برقراررکھا۔









