فرانس میں کھیلوں کے دوران حجاب پر پابندی کا قانون منظور

دائیں بازو کے سینیٹرز کے ایک گروپ کی طرف سے تجویز کردہ ترمیم کو 143 کے مقابلے میں 160 ووٹوں سے منظور کیا گیا۔

فرانسیسی سینیٹ نے کھیلوں کے مقابلوں کے دوران حجاب پہننے پر پابندی کے حق میں ووٹ دیا ہے، متنازع بل کی منظوری دیتے ہوئے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ کھیل کے میدان میں غیر جانبداری ضروری ہے۔

فرانسیسی ایوان بالا نے ایک مجوزہ قانون میں ترمیم کے حق میں ووٹ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ کھیلوں کی فیڈریشنز کے زیر اہتمام منعقد ہونے والے مقابلوں اور مقابلوں میں حصہ لینے کے لیے "مذہبی علامتوں کا استعمال ممنوع ہے”۔

یہ بھی پڑھیے

امریکہ میں مذہبی اور نسلی امتیاز کا شرمناک واقعہ

امریکی فوج کے ظلم کی انتہا، شام کے "نان اسٹرائیکر زون” پر بم گرا دیئے

دائین بازو کی سینیٹرز کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کے متن کے مطابق "اس ترمیم کا مقصد "کھیلوں کے مقابلوں میں نقاب پہننے” پر پابندی لگانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہیڈ اسکارف ان کھلاڑیوں کے دوران رکاوٹ کا باعث بن سکتے ہیں جب ان کھیلوں کی پریکٹس کی جارہی ہوتی ہے۔

 

 

View this post on Instagram

 

A post shared by H Pakistan (@hellopakistan)

دائیں بازو کے گروپ لیس ریپبلکنز کی طرف سے تجویز کردہ ترمیم کو حق میں 160 اور مخالفت میں 143 ووٹوں آئے۔ سینیٹ اور ایوان زیریں کے اراکین پر مشتمل ایک کمیشن کو اب متن کے شائع ہونے سے پہلے اس پر سمجھوتہ کرنے کے لیے اکٹھا ہونا پڑے کیونکہ ترمیم کو ابھی بھی ختم کیا جاسکتا ہے۔

واضح نہیں ہے کہ آیا یہ پابندی 2024 کے پیرس اولمپکس کے لیے لاگو ہو گی یا نہیں۔ اولمپک آرگنائزنگ کمیٹی نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا ہے۔

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے منصوبے کو تقویت دینے کے لیے ایوان زیریں کے قانون سازی نے یہ قانون سازی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے اس ترمیم کا مقصد فرانس کو بنیاد پرست اسلام پسندوں سے بچانا ہے۔ اور فرانسیسی اقدار کو فروغ دینا ہے۔ مساجد ، اسکولز اور کلبوں کی نگرانی کے لیے قانون کی منظوری کو ایک سال لگا ہے۔

فرانس حالیہ برسوں میں متعدد حملوں کی زد میں رہا ہے۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر ایمانوئل میکرون نے یہ ترمیم آنے والے انتخابات میں دائیں بازو جماعت کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کی ہے۔ ناقدین اسے ایمانوئل میکرون کی سیاسی چال قرار دے رہے ہیں۔

بائیں بازو کے سینیٹر کا کہنا ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کو استعمال کرنے کا مکمل اختیار ہے ، ہمیں اپنے آپسی اختلاف کو آگے بڑھنے سے روکنا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر