اسلام آباد کی شاہراہوں پر چلتا پھرتا گولڈن مین کراچی کی پہچان
محمد احسان عرف گولڈن مین کا کہنا ہے سنہرا روپ دھارنا کوئی آسان کام نہیں ہے ، گھنٹوں اسٹیچو بن کر کھڑے رہنے سے جسم تھک کر چور ہو جاتا ہے۔
گولڈن مین کا روپ اپنائے ایک نوجوان وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی شاہراہوں پر دکھائی دیتا ہے، یہ نوجوان ہے محمد احسان جن کا تعلق کراچی سے ہے۔
جماعت دوم تک تعلیم یافتہ نوجوان احسان روزگار کی تلاش میں کراچی سے اسلام آباد آیا۔ بہت کوشش کی مگر روزگار نہ ملا۔ احسان نے اس پر حوصلہ نہ ہارا اور ٹک ٹاک سے آئیڈیا لیتے ہوئے سنہرا روپ اپنا لیا۔
نیوز 360 کے نامہ نگار محمد احسان عرف گولڈن مین سے اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیون میں جناح سپر مارکیٹ کے قریب ملاقات کی، جہاں سنہرا روپ اپنائے احسان، اسٹیچو بن کر کھڑے تھے، اور کچھ ہی دیر میں ہمیں معلوم ہوگیا کہ ان کا یہ روپ اسلام آباد کے باشندوں کو بھا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مریم نواز کی تعریف پر شہباز تاثیر کا حنا پرویز بٹ پر لفظی حملہ
طلبہ اور اساتذہ کا لمز انتظامیہ کے رویے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ
خواتین ہوں یا حضرات سب ہی ان سے مصافحہ کر رہے تھے اور تصاویر بنوا رہے تھے، جن میں پیدل ، موٹر سائیکل سوار اور کار نشین بھی شامل تھے۔ مگر گولڈن مین کا یہ روپ سب سے زیادہ بچوں کو بھایا جو ان سے ملتے اور تصاویر بنواتے رہے۔
اسلام آباد کے شہریوں نے کراچی سے آئے اس نوجوان کی خاطر مدارات میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھی۔ کوئی مشروب کا ڈبہ لے کر آیا تو کسی نے چپس پیش کیے۔ کوئی برگر لایا تو کسی نے بسکٹ کا پیک بطور تحفہ پیش کیا۔
شہر اقتدار کے عوام جانتے ہیں کہ سنہرا سوانگ رچانا اور گھنٹوں اسٹیچو بن کر بغیر ہلے جُلے ، جم کر کھڑے رہنا آسان نہیں اور اس فنکار کی ستائش بھی ضروری ہے جو گھر سے سیکڑوں میل دور اسلام آباد کے شہریوں کا دل بہلا رہا ہے۔ یہ نواجوان ان کے لئے بھی مثال ہے جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے ملک کے حالات کو کوستے اور بےروزگاری کا رونا روتے رہتے ہیں۔
محمد احسان کا کہنا ہے کہ سنہرا روپ اپنانے پر روزانہ ہزار سے پندرہ سو روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں، چہرے پر سنہرا اسپرے کرنا بظاہر آسان لگتا ہے مگر اس سے جلد پر منفی اثرات پڑتے ہیں، یہ اسپرے چہرے اور ہاتھوں سے اتارنا آسان نہیں۔ گھنٹوں سٹیچو بن کر کھڑے رہنا بھی جان جوکھوں کا کام ہے، جس کی تھکاوٹ بھی گھنٹوں نہیں اترتی۔ لیٹ جاؤ تو اٹھا نہیں جاتا۔
نیوز 360 کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے محمد احسان نے بتایا کہ وہ اسلام آباد میں گولڈن مین کا روپ دھار کر اسٹیچو بنا تو پولیس نے شاہراہوں پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی۔ کئی روز تھانے ، کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور دیگر دفاتر کے چکر لگاتے رہے۔ پھر ان کی ملاقات ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات سے ہوگئی جنہوں نے احسان کو سڑکوں پرفارم کرنے کی باقاعدہ اجازت دی۔
اسلام آباد کی شہری خاتون رخسانہ کا نیوز 360 سے گفتگو میں کہنا تھا کہ محمد احسان نے منفرد روپ اپنایا ہے۔انہوں نے جو روپ اپنایا ہے یہ بہت مشکل کام ہے۔ایسے فنکاروں کی حوصلہ افزائی کرنا ضروری ہے۔
گوہر علی کا کہنا تھا کہ یہ نوجوان ان لوگوں کے لئے مثال ہے جو نشے اور غلط کاموں میں پڑ جاتے ہیں۔
شہری عامر کا کہنا تھا کہ احسان نے کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی بجائے محنت مزدوری کو شعار بنایا ہے،جو قابل ستائش ہے









