وزارت اعلیٰ کی حلف برداری کا معاملہ ، حمزہ شہباز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا

گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے حمزہ شہباز شریف سے حلف لینے سے انکار پر اب نومنتخب وزیراعلیٰ نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے حلف کا معاملہ تاحال حل نہ ہوسکا ، حمزہ شہباز شریف اسمبلی میں اکثریت حاضر کرنے کے باوجود حلف نہ اٹھا سکے۔ حمزہ شہباز شریف نے حلف اٹھانے کی استدعا لاہور ہائیکورٹ سے کردی۔

تفصیلات کے مطابق حکمران جماعت ن لیگ کو حکومت تو مل گئی مگر اس حکومت کو اپنے نام سے منسوب کرنے میں ایک کے بعد ایک مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ثانیہ نشتر نے لنگرخانوں پر احسن اقبال کے جھوٹ کا پول کھول دیا

24 گھنٹے کام کرنے والی عدالت خدارا مراسلے کی انکوائری کروا لے

عثمان بزدار کے استعفے کے بعد خالی ہونے والی پنجاب کی وزارت اعلیٰ کی نشست کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن کا سابق حکمران جماعت پی ٹی آئی اور چوہدری پرویز الہٰی کا سامنا تھا۔

16 اپریل کو بلاآخر متحدہ اپوزیشن نے اپنے امیدوار میاں حمزہ شہباز شریف کو کامیاب تو کروا لیا مگر حلف کے معاملے ایک بار پھر مشکلات کا شکار ہے۔

گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ کی جانب سے حمزہ شہباز شریف سے حلف لینے سے انکار پر اب نومنتخب وزیراعلیٰ نے عدالت جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

19 اپریل بروزِ منگل کو وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدہ کا حلف نہ لینے سے متعلق حمزہ شہباز کی لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

درخواست میں گورنر پنجاب اور چیف سیکرٹری کو فریق بنایا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ گورنر پنجاب نومنتحب وزیر اعلیٰ پنجاب سے حلف نہیں لے رہے ، جو آئین اور قانون کی خلاف وزری ہے۔

حمزہ شہباز کو پنجاب اسمبلی کے ایوان نے قانون کے مطابق وزیر اعلیٰ منتخب کیا ہے۔

درخواست میں استدعا کیا گیا ہے کہ عدالت گورنر پنجاب کو نئے وزیر اعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کے احکامات جاری کرے جیسے وزارت اعلیٰ کے انتخاب کا معاملہ عدالت کے ذریعے حل کروایا گیا ویسے یہ بھی حل کروایا جانا یے۔

متعلقہ تحاریر