ہنڈائی نے امریکا اور کینیڈا سے 4 لاکھ گاڑیاں واپس منگوا لیں

گاڑیاں بنانے والی جنوبی کوریائی کمپنی ہنڈائی نے انجن میں آگ لگنے کی 2 ممکنہ خرابیوں کے پیش نظر امریکا اور کینیڈا سے اپنی 3 لاکھ 90 ہزار سے زیادہ گاڑیاں واپس منگوا لی ہیں۔
ہنڈائی کے ترجمان مائیکل اسٹیورٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہنڈائی کے لیے صارفین کی حفاظت اور تحفظ سے زیادہ اہم کوئی چیز نہیں ہے۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’ہنڈائی اپنی تمام گاڑیوں کی فعال انداز میں ممکنہ خدشات کو مد نظر رکھتے ہوئے نگرانی اور تشخیص کرتی ہے۔ جب حفاظت سے متعلق کسی عیب کی نشاندہی کی جاتی ہے تو ہم گاڑی کو واپس بلانے اور متاثرہ صارفین کو بلا معاوضہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے تیز اور موثر انداز میں کام کرتے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
دنیا میں گاڑیاں بنانے والا چوتھا بڑا ادارہ پاکستان آرہا ہے
حال ہی میں ہنڈائی نے امریکا اور کینیڈا سے جن گاڑیوں کو واپس منگوایا ہے ان میں بریک فلوئڈ کے رساو اور پسٹن کے تیل کی رنگز سمیت 2 بڑے نقائص شامل ہیں۔
ایک معاملے میں گاڑی کے مالکان سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کو اس وقت تک گھروں سے باہر پارک کریں جب تک بریک فلوئڈ کے رساؤ کے مسئلے کو حل نہیں کر لیا جاتا۔

سب سے زیادہ جو گاڑیاں واپس منگوائی گئی ہیں ان میں 2013 سے 2015 کے ماڈلز کی 2 لاکھ 3 ہزار ایس یو وی سانٹا فی اسپورٹ شامل ہیں جن میں سے کئی کو دوسری بار منگوایا جا رہا ہے۔
دریں اثنا ، سب سے بڑی یاد میں 2013 سے 2015 کے دوران 203،000 سے زیادہ سانٹا فی اسپورٹ ایس یو وی کا احاطہ کیا گیا ہے ، جبکہ ، کچھ کو دوسری بار واپس بلایا جارہا ہے۔
ہنڈائی کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ ’سانٹا فی اسپورٹ کو واپس منگوانے کی وجہ اینٹی لاک بریک سسٹم (اے بی ایس) میں نقص ہے جس کی وجہ سے اندرونی طور پر بریک فلوئڈ رس سکتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ برقی آلات میں شارٹ سرکٹ ہوسکتا ہے۔‘
دوسری جانب ہنڈائی ایلینٹرا، کونا، اور ویلوسٹر گاڑیاں واپس بلائی گئی ہیں تاکہ ہنڈائی پسٹن کی آئل رنگز کی مرمت کرسکے۔
ہنڈائی نے کہا ہے کہ ’ہوسکتا ہے کہ یہ انجن کی اسمبلنگ کے دوران یسے پسٹن آئل رنگز استعمال کیے گئے ہوں جنہیں غیر مستحکم نائٹرائڈ ہیٹ سے تیار کیا گیا ہوگا اور یہ مسئلہ انجن کی خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔‘
گاڑیوں کے مالکان کو اپنی کاریں قریب ترین ہنڈائی ڈیلرشپ پر لانا ہوں گی جہاں انجن کا معائنہ کیا جائے گا اور ضرورت پڑنے پر اسے تبدیل کیا جائے گا۔ البتہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی کہ مرمت کے لئے کوئی قیمت نہیں لی جائے گی۔
مالکان کو خطوط کے ذریعہ مطلع کیا جائے گا اور بعد میں وہ گاڑی کی شناختی نمبر (وی آئی این) کے ذریعے مرمت کا پتہ لگاسکیں گے۔
امریکی نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن (این ایچ ٹی ایس اے) کے مطابق ، انجن کی ناکامی اور ہنڈائی اور کییاس کے ساتھ آگ لگنے کی پریشانیوں نے 2015 سے اب تک 60 لاکھ سے زیادہ گاڑیوں کو متاثر کیا ہے۔









